Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں کا الزام، کانگریس امیدوار پرسنجیت پوئیتنڈی نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو ٹھہرایا ذمہ دار*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

اسمبلی انتخابات سے عین قبل ووٹر لسٹ میں سنگین بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے آسنسول شمالی اسمبلی حلقہ سے کانگریس امیدوار پرسنجیت پوئیتنڈی نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو نشانہ بنایا ہے۔ منگل کی دوپہر کانگریس کی جانب سے آسنسول کے جی ٹی روڈ واقع گرجا موڑ کے نزدیک پارٹی دفتر میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں امیدوار پرسنجیت پوئیتنڈی، کانگریس رہنماشاہ عالم خان اور آسنسول میونسپل کارپوریشن کے کانگریس کونسلر ایس ایم مصطفیٰ موجود تھے۔ کانگریس رہنماؤں نے 23 اپریل کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے جاری ووٹر لسٹ پر شدید اعتراضات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے ذریعے شفاف ووٹر لسٹ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فہرست میں کئی سنگین خامیاں موجود ہیں۔ پرسنجیت پوئیتنڈی نے دعویٰ کیا کہ ووٹر لسٹ میں ایک ہی شخص کا نام کئی بار درج ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ کسی ایک ووٹر تک محدود نہیں بلکہ متعدد نام اس طرح دوہرا یا کئی مرتبہ شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی جائز ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کر دیے گئے ہیں، حالانکہ ان کے والدین قومی اداروں میں ملازم رہے ہیں اور وہ خود آسنسول میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے پاس ثانوی امتحان سمیت دیگر تعلیمی اسناد بھی موجود ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کے کونسلر ایس ایم مصطفیٰ کا نام بھی ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ ان کے والد ایسٹرن کول فیلڈز لمیٹڈ میں ملازم تھے اور انہوں نے اپنی پوری اسکولی تعلیم آسنسول میں مکمل کی ہے۔
کانگریس امیدوار نے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ میں اس طرح کی مبینہ ہیر پھیر کر کے الیکشن کمیشن بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں چانکیہ کہا جاتا ہے، مگر وہ چانکیہ نہیں بلکہ “چور” ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر ووٹ چوری کا معاملہ سب سے پہلے راہل گاندھی نے اجاگر کیا تھا، اور اب کانگریس آسنسول کی ووٹر لسٹ میں موجود بے ضابطگیوں کو سامنے لا رہی ہے۔ پرسنجیت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آسنسول شمالی اسمبلی حلقہ کے 171 نمبر بوتھ میں کئی ایسے ووٹروں کے نام موجود ہیں جو ایک سے زائد مرتبہ درج ہیں، حتیٰ کہ ان کے والد کا نام اور عمر بھی ایک جیسی دکھائی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس سے واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی کس طرح الیکشن کمیشن کو استعمال کر کے مغربی بنگال کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ دوسری جانب کانگریس کے ان الزامات کو بی جے پی نے یکسر مسترد کر دیا۔ آسنسول شمالی سے بی جے پی امیدوار کرشنندو مکھرجی نے کہا کہ بی جے پی کا الیکشن کمیشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر ووٹر لسٹ میں کوئی بے ضابطگی ہے تو اس بارے میں جواب الیکشن کمیشن ہی دے سکتا ہے۔