*شہدائے تلنگانہ کے احسانات کا قرض ضرور ادا کیا جائے گا*
*وعدوں کی عدم تکمیل پر بھو پوراٹم کے آغاز کا انتباہ*
*یوم تاسیس کے موقع پر دفتر ٹی آر ایس بنجارہ ہلز میں قومی پرچم کشائی۔ کے کویتا کا خطاب*
دفتر تلنگانہ رکشنا سینا بنجارہ ہلز میں ریاستی یوم تاسیس کے موقع پر ٹی آر ایس چیف کلواکنٹلہ کویتا نے قومی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کویتا نے تلنگانہ کے عوام کو ریاستی یومِ تاسیس کی مبارکباد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے قیام کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو دل کی گہرائیوں سے یاد کیا جا رہا ہے اور ان کے احسانات کا قرض ضرور ادا کیا جائے گا۔ انہوں نے تلنگانہ تحریک کو دوسری آزادی کی جدوجہد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تحریک میں کئی لوگوں نے اپنی جانیں، املاک اور روزگار تک قربان کیا۔کویتا نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے نظریاتی رہنما پروفیسر جیہ شنکر کو اس موقع پر خصوصی طور پر یاد کرنا ضروری ہے ۔ انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ ریاست کے قیام کے 12 سال بعد بھی ان کا مجسمہ نصب نہ ہونا ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جاگروتی کی جانب سے چار اضلاع میں ان کے مجسمے نصب کئے گئے ہیں، مگر حیدرآباد میں ان کا مجسمہ ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں وزیر اعلیٰ کو خط بھی لکھا گیا ہے اور 2014 سے مسلسل اس کے لئے کوششیں جاری ہیں جبکہ 2017 میں بلدی محکمہ کو بھی مکتوب روانہ کیا گیا تھا مگر اس وقت کی حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 6 اگست جو کہ پروفیسر جیہ شنکر کی یومِ پیدائش ہے، اس سے قبل ٹینک بند پر ان کا مجسمہ نصب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اجازت دے تو اس مجسمہ کی تنصیب اور اس کی تاحیات دیکھ بھال کے اخراجات تلنگانہ رکشنا سینا خود برداشت کرے گی بصورت دیگر حکومت اس سے بہتر انداز میں اس کام کو انجام دے۔کویتا نے کہا کہ تلنگانہ تحریک ایک تاریخی جدوجہد تھی مگر آج کی نئی نسل کو اس کی مکمل معلومات نہیں ہیں اس لئے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو اس تاریخ سے روشناس کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 2 جون صرف ایک تعطیل نہیں بلکہ وہ دن ہے جس نے عوام کو شناخت، عزت اور آزادی دی جہاں وہ بغیر کسی امتیاز کے اپنی زبان اور ثقافت کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس طرح 15 اگست کو یوم آزادی بھرپور طریقے سے منائی جاتی ہے، اسی طرح 2 جون کو یوم تاسیس تلنگانہ بھی اسی جوش و خروش سے منایا جانا چاہئے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ یومِ تاسیس کے موقع پر وزیر اعلیٰ نے تحریک کے کارکنوں سے کئےگئے وعدوں پر کوئی واضح اعلان نہیں کیا اور کے کے کمیٹی کے طریقہ کار پر بھی وضاحت نہیں دی، جسے انہوں نے افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واضح اعلان نہیں کرتی ہے تو بڑے پیمانے پر بھو پوراٹم (زمین کی جدوجہد) شروع کی جائے گی اور 2 جولائی کو بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس تحریک میں پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر شرکت کریں اور دانشوروں، ملازمین، طلبہ، وکلاء اور صحافیوں سمیت ہر طبقہ اس میں شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک کو ملین مارچ کی یاد تازہ کرنے کے انداز میں منظم کیا جائے گا۔کویتا نے کہا کہ تلنگانہ کے شہداء اور تحریک کے کارکنوں کی عزت افزائی اور ان کے خاندانوں کی مدد کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تلنگانہ رکشنا سینا اقتدار میں آنے کے بعد شہداء کے خاندانوں کو ایک کروڑ روپئے فراہم کرے گی اور تحریک کے کارکنوں کو ریاست کی ترقی میں شراکت دار بنایاجائے گا۔











