*تلنگانہ جہد کاروں کو انصاف کی فراہمی میں تاخیرنہ کی جائے: کے کویتا*
صدر تلنگانہ رکشنا سینا کلواکنٹلہ کویتا نے تلنگانہ جہد کاروں کی شناختی کمیٹی کو اپنی رپورٹ پیش کی اور کہا کہ تحریک کے کارکنان کو انصاف فراہم کرنے میں کسی بھی قسم کی تاخیر نہ کی جائے۔انہوں نے زور دیا کہ مرکزی حکومت کی مجاہدین آزادی سمان یوجنا اور حیدرآباد لبریشن موومنٹ کے رول پوزیشن کا سنجیدگی سے مطالعہ کرتے ہوئے اسی طرز پر تلنگانہ تحریک کے کارکنان کو فوائد فراہم کئے جائیں۔کویتا نے کہا کہ کمیٹی کے بارے میں عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ صرف وقت گزاری کے لئے بنائی گئی ہے لہٰذا کمیٹی کو اپنی کارکردگی سے اس تاثر کو غلط ثابت کرنا ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ وہ خود بی آر ایس کے اندر رہتے ہوئے تحریک کے کارکنان کے حقوق کے لئے جدوجہد کرتی رہیں اور اسی وجہ سے سیاسی نقصان بھی اٹھایا۔ اگر ان کی تجاویز سے کارکنان کو کچھ فائدہ پہنچتا ہے تو وہ اسے اپنی خوش نصیبی سمجھیں گی۔کویتا نے مطالبہ کیا کہ 1969 کی تلنگانہ تحریک، کسان جدوجہد اور دیگر تحریکوں میں حصہ لینے والوں کو بھی مناسب طریقے سے شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جیل جانے والے، مقدمات کا سامنا کرنے والے، پولیس زیادتیوں کا شکار ہونے والے، خواتین، ایس سی اور ایس ٹی طبقات سے تعلق رکھنے والے تلنگانہ جہدکاروں کو فوری طور پر شناخت دے کر فائدہ پہنچایا جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن کارکنان نے ملازمتیں کھوئیں، مالی نقصان اٹھایا یا جسمانی معذوری کا شکار ہوئے، ان کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کیا جائے۔ شہید کارکنان کے خاندانوں کو اولین ترجیح دینے کی بھی انہوں نے اپیل کی۔کویتا نے نشاندہی کی کہ دیگر ریاستوں جیسے جھارکھنڈ، گوا، بہار، اترپردیش اور مہاراشٹرا میں تحریک کے کارکنان کے لئے پنشن اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، لہٰذا تلنگانہ میں بھی ایسے اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی ایک مقررہ مدت کے اندر فیصلہ کرتے ہوئے کارکنان کو شناختی کارڈ جاری کرے اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے واضح لائحہ عمل پیش کرے۔










