Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*کانگریس اور بی آر ایس قائدین پر مبینہ طور پر اراضیات پر قبضے کا الزام*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*کانگریس اور بی آر ایس قائدین پر مبینہ طور پر اراضیات پر قبضے کا الزام*

*کسانوں کی زمینیں کسانوں ہی کو واپس ملنی چاہئیں*

*رنگاریڈی ضلع کے کونگرا کردو اراضی متاثرین کے ساتھ تلنگانہ رکشنا سَینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا کی پریس کانفرنس*

کونگراکردو میں موجود 580 ایکڑ وقف اراضی میں سے پہلے ہی 150 ایکڑ زمین مبینہ طور پر بھو مافیا کے قبضے میں جاچکی ہے۔
کونگرا کردو کے سروے نمبر 2 سے 400 تک کی 580 ایکڑ اراضی وقف بورڈ کی ملکیت ہونے کا 2007 میں ہی گزٹ جاری کیا گیا تھا اور اسے 22-A میں شامل کیا گیا تھا۔ 2022 میں مافیا کی نظر ان زمینوں پر پڑی۔ ایک کسان نے 58 ایکڑ اراضی پر فصل کاشت کی تو تین جے سی بی مشینوں کے ذریعہ فصل تباہ کرکے وہاں لے آؤٹ تیار کردیا گیا۔ بہار اور اترپردیش میں جس طرح کی جابرانہ حکمرانی کا الزام عائد کیا جاتا ہے، اسی طرح کی مبینہ زیادتی کرتے ہوئے کونگرا کردو میں کسانوں کی زیرِ کاشت زمینیں چھین لی گئیں۔ بھو مافیا کی مبینہ سرگرمیوں کے خلاف کسانوں نے ریونیو اور پولیس حکام سے شکایات کیں، لیکن کم از کم مقدمات بھی درج نہیں کئے گئے۔ کونگرا کردو گاؤں سے کوئی تعلق نہ رکھنے والے افراد کے نام پر مبینہ طور پر ORC تیار کئے گئے، ان کی بنیاد پر عدالتوں میں مقدمات دائر کئے گئے، اپنے حق میں فیصلے حاصل کئے گئے اور بعد ازاں رجسٹریشن کروایا گیا۔ 2022 میں 22-A کی فہرست میں شامل کونگرا کردو کی زمینوں کا بھی رجسٹریشن کیا گیا۔ اس سے متعلق تمام ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہیں۔ اربن کرسٹ اور سٹی گرینڈ این کیو وینچرز نامی اداروں نے یہاں بڑے پیمانے پر وینچرز قائم کئے ہیں۔ 2022 کے بعد یہاں ہونے والے تمام رجسٹریشن منسوخ کئے جانے چاہئیں۔ ممنوعہ فہرست میں شامل زمینوں پر لے آؤٹ کی اجازت کیسے دی گئی؟ ایچ ایم ڈی اے کمشنر کیا کر رہے ہیں؟ آج بھی سرکاری ریکارڈ واضح طور پر بتاتا ہے کہ کونگرا کردو کی مذکورہ زمینیں ممنوعہ فہرست میں شامل ہیں۔ان زمینوں پر کاشت کرنے والے کسانوں اور وقف بورڈ کے درمیان عدالت میں قانونی تنازعہ جاری ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ یہ اراضی وقف بورڈ کی ہے یا کسانوں کی۔ کویتا نے خبردار کیا کہ اگر اربن کرسٹ اور سٹی گرینڈ این کیو وینچرز نے آئندہ ایک گز زمین پر بھی اپنے وینچر میں توسیع کی تو وہ رنگاریڈی کلکٹر اور ریاستی حکومت کو عدالت میں لے جائیں گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دونوں تعمیراتی ادارے کونگرا کردو کے کسانوں کو خوف زدہ کر رہے ہیں۔ کویتا نے الزام لگایا کہ کانگریس اور بی آر ایس کے قائدین مبینہ طور پر مل کر 5 ہزار کروڑ روپئے مالیت کی 580 ایکڑ زمین ہڑپ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکو بھی دن دھاڑے اس طرح چوری نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ نمستے تلنگانہ میں بھو مافیا کے خلاف صرف ایک دن خبر شائع ہوئی۔ ان کے مطابق یہ ایک اہم بی آر ایس قائد کا وینچر ہے اور اس کے پیچھے ایک اور اہم قائد موجود ہے، لیکن اگلے دن سے اس اخبار میں اس معاملے پر ایک خبر بھی شائع نہیں ہوئی۔کویتا نے کہا کہ ساکشی میں بھی مافیا کے خلاف پہلے دن ایک مضمون شائع ہوا، لیکن اگلی صبح کسانوں کے خلاف خبر شائع کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں حال ہی میں معلوم ہوا کہ رامنا اور جگنا دوست بن گئے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب پہلے دن بھو مافیا کے خلاف خبر شائع ہوئی تو اگلی صبح اسے کسانوں کے خلاف خبر میں تبدیل کرنے کے پیچھے کون سی طاقتیں کارفرما ہیں؟کویتا نے بتایا کہ بالامیا دیوی نامی آئی اے ایس افسر نے حکومت کو مکتوب لکھ کر کہا ہے کہ کونگرا کردو کی زمینوں کے معاملے میں ان کے دستخط مبینہ طور پر جعلی کئے گئے ہیں اور ان دستاویزات کو قبول نہ کیا جائے۔انہوں نے سوال کیا کہ نمستے تلنگانہ اور ساکشی میں صرف ایک دن خبریں شائع ہونے کے بعد یہ معاملہ کیوں دبا دیا گیا؟ انہوں نے بی آر ایس سے اس کا جواب دینے کا مطالبہ کیا۔
کویتا نے کہا کہ نرسما نامی ایک کسان کی زمین کے لئے لکشمی کے نام سے مبینہ طور پر ORC حاصل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کونگرا کردو میں اس طرح کی کئی غیر قانونی کارروائیاں ہوئی ہیں اور ان تمام رجسٹریشن کو فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہئے۔کویتا نے کہا کہ بی آر ایس حکومت میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’کچھ گھروں کی قسمت سونے میں بدل گئی ہے‘‘اور کونگرا کردو کی یہ زمینیں بھی اس بات کی گواہی دے رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کرے۔

Latest News

Related News