*شدید خشک سالی کے باوجود وزیراعلیٰ کی بے حسی : کلواکنٹلہ کویتا*
*کابینہ کا خصوصی اجلاس فوری طلب کرکے خشک سالی اور کسانوں کے مسائل حل کئے جائیں*
*جنوبی ریاستوں کی مدد نہ کی گئی تو عوام وزیراعظم مودی کو معاف نہیں کریں گے*
*ملک میں ای وی ایم ختم کرکے بیالٹ پیپرکے ذریعہ انتخابات کرائے جائیں، تب ہی شفافیت ممکن ہے*
*صدر تلنگانہ رکشنا سینا کی پریس کانفرنس*
*حیدرآباد:* ریاست بھر میں شدید خشک سالی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ریاست میں قحط کی صورتحال دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ تمام اضلاع میں خشک سالی ہے اور بعض مقامات پر زیرِ زمین پانی 20 میٹر کی گہرائی تک پہنچ گیا ہے۔ کئی علاقوں میں کسان اپنی فصلیں جلانے پر مجبور ہیں۔ جولائی میں معمول سے ایک فیصد کم بارش ہوئی جبکہ اگست میں 38 فیصد اور ستمبر میں 30 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی۔ سائنس دانوں نے چھ ماہ قبل ہی دنیا کو رواں سال سوپر ایل۔ نینو کے امکان سے خبردار کردیا تھا لیکن حکومت نے کم از کم جائزہ لے کر صورتحال جاننے کی کوشش نہیں کی۔کویتا نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو آبپاشی، زراعت اور توانائی کے وزراء کے ساتھ جائزہ اجلاس طلب کرکے صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئے تھے مگر انہوں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ ناگرجنا ساگر جاکر ورن یگنا کیا اور ریاست کو اس طرح چھوڑ دیا جیسے بارش ہوئی تو ٹھیک، ورنہ عوام کی قسمت۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اب بھی ایک کروڑ 20 لاکھ ایکڑ پر فصلیں موجود ہیں اور نومبر تک ان فصلوں کو مکمل بجلی فراہم کی جائے گی تو ہی انہیں بچایا جاسکتا ہے۔ بورویل کے ذریعہ فصلوں کو بچانے کے لئے بجلی ضروری ہے، لیکن ریاست کے کسی بھی گاؤں میں 6 سے 7 گھنٹے بھی بجلی نہیں مل رہی ہے۔ وزیراعلیٰ کے آبائی گاؤں کونڈاریڈی پلی میں بھی 7 گھنٹے بجلی نہیں آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی مانگے یا خریدے، کسانوں کو 24 گھنٹے مفت بجلی فراہم کرنی ہوگی۔
کویتا نے کہا کہ حالیہ کابینہ اجلاس کے بعد توقع تھی کہ خشک سالی سے متاثرہ منڈلوں کا اعلان کیا جائے گا، جبکہ مہاراشٹرا، کرناٹک اور آندھرا پردیش پہلے ہی خشک سالی سے متاثرہ منڈلوں کا اعلان کرچکے ہیں۔ خشک سالی سے متاثرہ منڈلوں کا اعلان ہونے پر مرکز سے امداد حاصل ہونے کا امکان ہوتا ہے، لیکن یہ حکومت کم از کم خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کرنے کی حالت میں بھی نہیں ہے۔ کسانوں اور فصلوں کو بچانے کے لئے فوری طور پر کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے۔انہوں نے وزیراعظم مودی سے اپیل کی کہ خشک سالی سے پریشان مہاراشٹرا سمیت جنوبی ریاستوں کی مدد کی جائے۔ اگر اس وقت مدد نہیں کی گئی تو عوام انہیں معاف نہیں کریں گے۔ تلنگانہ کے قیام کے بعد مرکز نے ایک روپیہ بھی اضافی مدد نہیں کی، اب کم از کم تلنگانہ کی مدد کی جائے۔ کئی ریاستوں میں اضافی بجلی پیدا ہورہی ہے، اس بجلی کو جنوبی ریاستوں کو مفت فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعلیٰ نے ورن یگنا کے نام پر ریاست کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا، کم از کم وزیراعظم مدد کریں۔کویتا نے کہا کہ بجلی کی مناسب فراہمی نہ ہونے کے باعث سبزیوں سمیت تمام ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ہم نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے سنگارینی کو واجب الادا بقایاجات ادا نہ کرنے کی وجہ سے بجلی کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہوں گی۔ اب سنگارینی کی بجلی دوسری ریاستوں کو فروخت کی جارہی ہے۔ اگر اس وقت بقایاجات ادا کردیئے جاتے تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہماری جانب سے اٹھائے گئے تمام نکات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ حکومت کتنی نااہل ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اب بھی توجہ نہیں دی تو 60 فیصد کسان شدید مشکلات کا شکار ہوجائیں گے۔ گرمی میں شدیداضافہ کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے، اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے حکومت کو عملی منصوبہ تیار کرنا چاہئے۔ خشک سالی سے نمٹنے اور کسانوں کے مسائل حل کرنے کے لئے کابینہ کا خصوصی اجلاس بلانا ضروری ہے۔کویتا نے کہا کہ مسئلہ صرف یہاں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پینے کے پانی کا بحران بھی پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ تمام ذخائر پہلے ہی ڈیڈ اسٹوریج کی صورتحال تک پہنچ چکے ہیں۔ کم از کم کرشنا کے پانی کو محفوظ رکھنے کے لئے بھی حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کئے۔ وزیراعلیٰ نے محبوب نگر سے ہمارا پانی کپّم منتقل کئے جانے پر بھی کوئی توجہ نہیں دی۔ اگر نارلاپور ریزروائر پر کچھ رقم خرچ کی جاتی تو آج زیر زمین پانی موجود ہوتا۔ کلواکرتی کو مکمل صلاحیت کے ساتھ پانی سے بھرنے کی صورتحال پیدا کی جاسکتی تھی، مگر تین سال میں یہ چھوٹا سا کام بھی نہیں کیا گیا۔ اب کرناٹک سے پانی لانے کا دعویٰ کرتے ہوئے ڈرامہ کیا جارہا ہے، جبکہ دوسری جانب چندرابابو کو پانی تحفہ میں بھیجا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں کسانوں کے مسائل کوحکومت تک پہنچانے کے لئے ہماری حلقہ واری انچارج ٹیمیں ہر گاؤں کا دورہ کریں گی۔ خشک سالی کے مسئلہ سے حکومت کو آگاہ کرنے کے لئے خصوصی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ خشک سالی کا مسئلہ صرف کسی ایک وزارت کی ناکامی نہیں بلکہ پوری حکومت کی ناکامی ہے۔کویتا نے کہا کہ صرف کسانوں کے مسائل ہی نہیں، بلکہ ”آپریشن بلیو کوڈ“ کے تحت ہماری پارٹی کے قائدین ریاست بھر کے اسپتالوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ موجودہ صورتحال کو ایل نینو نہیں بلکہ شدید قحط اور خشک سالی کے طور پر پیش کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بھوپال پلی اسپتال میں چھت گرنے کا واقعہ ہم نے ہی منظر عام پر لایا تھا۔ ریمس واقعہ پر ہماری جدوجہد کے بعد حکومت نے اسی روز 11 کروڑ روپئے جاری کئے۔ بھوپال پلی واقعہ کی ویڈیو بنانے والے ہماری پارٹی کے کارکن کو پولیس دھمکیاں دے رہی ہے۔ عوامی مسائل کی یکسوئی کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو دھمکانے کے بجائے پولیس کو عوام کو پریشان کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔کویتا نے کہا کہ حکومت 317 جی او سے متاثرہ افراد کو شدید مشکلات میں مبتلا کررہی ہے۔ جس مسئلہ کو ایک روپیہ خرچ کئے بغیر حل کیا جاسکتا ہے، اسے بھی تین سال سے حل نہیں کیا گیا۔ احتجاج کرنے والے اساتذہ کو گاندھی جینتی کے روز گھسیٹ کر لے جایا گیا اور ان پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ گاندھی جی کے اصولوں پر عمل کرنے کا دعویٰ کرنے والی کانگریس پارٹی گاندھی جینتی کے روز ایسا کیسے کرسکتی ہے؟ 317 جی او متاثرین میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں اور انہیں سمجھنا چاہئے ہمیں ہی جدوجہد کرنی پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کےعمل میں غلطیوں پر سی ای سی کے استعفیٰ سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ عارضی حل کے بجائے نظام میں تبدیلی لانے والا مستقل حل ضروری ہے۔ خاص طور پر ای وی ایم ختم کرکے بیالٹ پیپر کے ذریعہ انتخابات کرائے جائیں، تب ہی انتخابات میں شفافیت ممکن ہے۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی بیالٹ پیپر کے ذریعہ انتخابات ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کا خیال ہے کہ ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کا امکان موجود ہے۔ ملک میں دوبارہ بیالٹ پیپر کے ذریعہ انتخابات کرانے کے لئے ہماری پارٹی کی جانب سے دہلی تک جاکر جدوجہد کی جائے گی۔اسی طرح اسکولوں میں باتھ روم اور بنیادی سہولیات موجود ہیں یا نہیں، اس کا جائزہ لینے کے لئے بھی پارٹی کی ایک ٹیم مقرر کی جائے گی۔










