Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*شمالی آسنسول میں تعلیمی مذاکرہ کی سجائی گئی مجلس* *اردو اسکولوں کے اساتذہ کی غیرحاضری پراظہار افسوس*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*شمالی آسنسول میں تعلیمی مذاکرہ کی سجائی گئی مجلس*                                                                    *اردو اسکولوں کے اساتذہ کی غیرحاضری پراظہار افسوس*

      اردو اسکولوں کے مسائل بےشمار ہیں اور وسائل بہت ہی محدود مگر ان ہی حاصل شدہ وسائل میں اسکولوں کا تعلیمی معیار اور تعلیمی نظام بلند کرنے کے کیا اقدامات کئے جاسکتے ہیں ان پر غور و خوض کرنے کے مقصد سے اتوار کے دن شمالی آسنسول کے چھپریا موڑ کے نزدیک واقع کریمیہ سیٹی ماڈل اسکول میں ایک تعلیمی مذاکرہ کی مجلس سجائی گئی ۔ آسنسول انمول ویلفئیر سوسائٹی اور مرکز علم وادب کی مشترکہ کوششوں سے منعقدہ اس مجلس میں مہمان خاص وخصوصی مقرر کے طور پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ( مانو) کےکولکاتہ ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر رافید علی کی شرکت ہوئی۔صدارت کالم نویس اور کئی کتابوں کے مصنف الحاج انجنئیر خورشید غنی کی رہی جبکہ نظامت کی ذمہ داری آسنسول بی بی کالج کے صدر شعبہ اردو اور مانو کے آسنسول کے انچارج ڈاکٹر مشکور معینی نے نبھائی۔ موقعے پر آسنسول درگاپور پولس کمشنریٹ کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولس محمد ہارون، مولانا آزاد بی ایڈ کالج کے پروفیسر ڈاکٹر نہال احمد انصاری، آسنسول بی سی کالج کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر جمشید عالم کے علاؤہ دیگر تعلیمی وادبی شخصیات موجود رہیں۔ مرکز علم و ادب کے وجیہہ الدین جمال نے افتتاحی گفتگو کے دوران مجلس کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے اس اہم تعلیمی مجلس میں زیادہ تراردو اسکولوں اور مدارس کے اساتذہ کی غیر موجودگی پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا۔ موصوف نے بتایا کہ  شمالی آسنسول کے پانچ اردو ہائی اسکول اور ایک مدرسہ اور جنوبی آسنسول کے چاراردو ہائی اسکولوں کے علاؤہ برنپور،کلٹی ،نعمت پوراور ڈیسرگڑھ کے اسکولوں کے ذمہ داران سے ملاقات کرکے اس اہم مجلس میں ان  اسکولوں کے دو سے تین اساتذہ کی شرکت یقینی بنانے کی گذارش کی گئی تھی تاکہ اسکولوں کے مسائل جان کر ان کے سدباب کی کوشش کی جائے مگر افسوس سوائے ربانیہ گرلس ہائی اسکول کی ٹیچر انچارج آفرین ناز و زیبا تبسم، تالپوکھریا جونئیر ہائی اسکول کے ماسٹر محمد سلیمان اور کلٹی ملت اردو گرلس ہائی اسکول کی کولکاتہ کی رہنے والی معلمہ یاسمین پروین اور کریمیہ سیٹی ماڈل اسکول کے ہیڈماسٹر کے علاؤہ مقامی واطراف کے کسی بھی اسکول کے اساتذہ کی نمائندگی صفر رہی۔دوسری طرف اے سی پی محمدہارون نے بھی مجلس میں زیادہ تر خالی پڑی نشستوں کی طرف اشارہ کرکے مجلس کی نوعیت اور عنوان  پر ہی سوال کھڑے کردئیے۔ موصوف نے اردو والوں کا اردو اردو کے لئے رٹ لگائے جانے پر بھی انگشت نمائی کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پہلی ترجیح تعلیم کی وصولیابی کو دینی چاہئے۔ صرف اردو کوہی ذریعہ تعلیم بنائے جانے کی کوششوں کے بر خلاف  جسے جس زبان میں سہولت حاصل ہے اسے اسی زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرائے  جانے پر زور دیا۔ کامیابی حاصل کرنے کےلئےاردو والوں کو پراکٹیکل بننے کامشورہ بھی  دیا۔موجودہ حالات میں اساتذہ،گارجین اور طلبا کے مسائل کے ساتھ ان  کی ذمہ داریوں کی طرف بھی اشارہ کیا۔ربانیہ گرلس ہائی اسکول کی ٹیچر انچارج آفرین ناز نےموجودہ وقتوں میں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم اساتذہ واستانیاں  پڑھانے کے علاؤہ دیگر بہت ساری  ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے مجبور ہیں۔کبھی ایس آئی آر کاکام تو کبھی مردم شماری کی ڈیوٹی، کبھی ایکو کلب کے نام پر پودے لگانے کی ذمہ داری،تو کبھی طالبات کو انجکشن لگوانےکا کام کی نگرانی تو کبھی اسکول کے آس پاس کے علاقوں میں منشیات کے کاروبار کو پنپنے نہیں دئیے جانے کی دیکھ ریکھ۔ گویا ہمیں معلم  کےساتھ ڈاکٹر اور پولس کی ذمہ داریاں بھی ادا کرنی پڑتی  ہیں ۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی ۔ایک ٹیچر انچارج ہونے کے ناطےمجھے  اسکول کے اوقات کے اندر اور باہر کبھی بھی تعلیمی محکمہ کے ذمہ داران کے ذریعہ بھیجی گئی ہدایات اور نوٹس کا جواب بھی فوراً سے پیشتر دینے کےلئے تیار رہنا پڑتا ہے۔مہمان مقرر ڈاکٹر رافید علی نےحالات سے بددل نہ ہونے کی بات کہتے ہوئے حاضرین مجلس کو بیدار ہونے اور اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ  پوری ہمت اور مصمم ارادے کے ساتھ حالات بدلنے کی کوشش کرنی پڑے گی، جب ہی کامیابی ملے گی۔ موصوف نےکیرالا میں واقع اپنے آبائی گاؤں کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ آج سے پچیس سال قبل اس گاؤں کا تعلیمی گراف بالکل نیچے تھا مگر گاؤں والوں کے ذریعہ چلائی گئی تعلیمی بیداری مہم اور ہر نہج پر کی جانے والی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں آج وہ گاؤں تعلیم کے لائن سے ایک ماڈل گاؤں بن چکا ہے۔ لہذا ہمیں ایک ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دے کر صبر اور منصوبہ بندی کے ساتھ قدم بڑھانا ہوگا ان شاءاللہ بہتر نتائج ضرور حاصل ہوں گے۔موصوف نے ملازمت پیشہ افراد،مدارس کے طلبا یا کسی وجہ کر اعلی تعلیم کی ڈگری حاصل کرنے میں ناکام  لوگوں کے لئے مانو کےفاصلاتی نظام کے ذریعہ چلائے جانے والے کورسیز کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ان سے مستفیض ہونے کامشورہ بھی دیا۔ڈاکٹر نہال احمد انصاری نے اردو طلبا کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ  معلومات کافقدان بتایا جبکہ ڈاکٹر جمشید عالم نے طلبا کو اپنی تمام تر توجہ تعلیم کی طرف مرکوز کرکے پوری دل جمعی کے ساتھ آگے بڑھنے کامشورہ دیا ۔صدر مجلس الحاج انجنئیر خورشید غنی نے اس بامقصد تعلیمی بیداری و تعلیمی مذاکرہ کے پروگرام کے کامیاب انعقاد پر انمول ویلفئیر سوسائٹی کے روح رواں اور آسنسول کارپوریشن کے سابق ڈپٹی مئیر سید وسیم الحق اور مرکز علم وادب کے سکریٹری وجیہہ الدین جمال کو مبارکباد پیش کیا۔ سید وسیم الحق کے اظہار تشکر کے ساتھ مجلس کے خاتمے کا اعلان کیا گیا ۔

Latest News