*آسنسول میں تعلیمی تبادلہ خیال کی سجی محفل پورے ضلع کے صاحب کتاب شعراء،ادباء سمیت اساتذہ کو دیا گیا اعزاز*
*“سیاسی پارٹی کے نام پر نہیں کام کی بنیاد پرکریں مخالفت”* *جیتندر تیواری*
خصوصی رپورٹ :
*امتیاز احمد انصاری*

کلچرل اینڈ لٹریری فورم بنگال کے زیر اہتمام اتوار کے دن شمالی آسنسول ریلپار کے سفینہ پیلس کے سجے سجائے خوبصورت ائیر کنڈیشنڈ ہال میں ایک پروقار اور اپنی نوعیت کی منفرد تقریب کاانعقاد کیاگیا۔ اس تقریب میں جہاں ایک جانب پورے پچھم بردوان ضلع کے ایسے تمام بزرگ ونئی نسل کے شعراء و ادباء جن کی تخالیق کتابی صورت میں منظرِ عام پر آ چکی ہیں،انہیں اعزاز سے نوازہ گیا وہیں دوسری جانب ریلپار کے تمام سرکاری پرائمری وہائی اسکولوں کے ہیڈماسٹر اور معاون معلمین کی حوصلہ افزائی کی گئی۔فورم کے بانی جیتندر تیواری کی تحریک پر وارڈ نمبر 27 کے جواں سال سماجی خدمت گار اور سابق کونسلر گورو گپتا نے چمن اسپورٹنگ کلب کے نوجوانوں کو ساتھ لے کر اس تاریخی پروگرام کا انعقاد کیا جو کامیاب ہونے کے ساتھ تاریخی بھی رہا۔دوران تقریب آسنسول،برنپور،رانی گنج،انڈال،سری پور اور کلٹی کے تقریباً 40 صاحب کتاب شعراء و ادباء کوان کی تخلیقی کاوشوں کے اعتراف میں پرزور تالیوں کے درمیان مومنٹو اورشانہ زیب پیش کیا گیا۔ اسی کے ساتھ حاجی قدم رسول ہائی اسکول،آسنسول رحمانیہ ہائی اسکول،آسنسول عیدگاہ ہائی اسکول،ربانیہ ہائی اسکول کے صدر المدرسین سمیت ریلپار کے تمام اردو پرائمری اسکولوں کے ہیڈ ٹیچرس اور ہائی پرائمری کے معاون معلمین کو موقع پر موجود کلچرل اینڈ لٹریری فورم کے بانی جیتندر تیواری، ڈبلیو بی سی ایس افسران توصیف شمشاد اور شاداب خان،ایس آئی آف اسکول ریاض عشرت شمشی، الحاج نذیر احمد یوسفی،ڈاکٹر عشرت بیتاب،انجنئیر خورشید غنی،ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا،ڈاکٹر فاروق اعظم،محمد رضوان ،محمد شمشیر عالم،محمد محمود انصاری،عبدالمنان انصاری، محمد جاوید،الحاج محمد اسرار احمد،فہیم اقبال، محمد سلیمان ودیگر کے ہاتھوں اعزاز پیش کیا گیا۔ بعدازاں تعلیمی مسائل پر تبادلہ خیال کرتے مخصوص مقررین نے اردو اور اردو والوں کے مسائل بیان کئے اور خصوصی طور پر آسنسول کارپوریشن کے سائن بورڈ سے اردو کے غائب کئے جانے پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے دوبارہ شامل کئے جانے کی گذارش بھی کی۔ کلچرل اینڈ لٹریری فورم کے روح رواں، آسنسول کارپوریشن کے سابق مئیر اور پانڈیشور اسمبلی حلقہ کے رکن اسمبلی جیتندر تیواری نے اپنی بےلاگ گفتگو کے دوران وہ تمام باتیں کہیں جو عموماً اس طرح کی مجلسوں میں کوئی سیاسی رہنما کہنے کی ہمت نہیں کرپاتے۔ موصوف نے صاف لفظوں میں کہا کہ ایک مخصوص سیاسی جماعت نے محض اپنے ووٹ بینک کی خاطر اردو اور اردو والوں کو اپنا ہمدرد کے طور پر پیش کیا۔ حکومت بدلنے کے بعد اس جماعت سے غصے کا اظہار اردو والوں کے ساتھ بھی کیا جارہاہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو والے اپنی سوچ بدلیں اور برسر اقتدار جماعت کی مخالفت مذہبی یا سیاسی بنیاد پر نہ کریں بلکہ ان کے وہ کام جو انہوں نے آپ کے فائدے کے لئے نہ کیا ہو یا جن عوامی کاموں کا مطالبہ آپ نے کیا ہو اسے انجام دینے میں کوتاہی برتی جارہی ہو اس بنیاد پر کریں۔کارپوریشن کے سائن بورڈ سے اردو کے ہٹائے جانے پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیااور کہا کہ ان کے مئیرشپ کے زمانے میں ہی اس بورڈپر دوسری زبانوں کے ساتھ اردو کوبھی نمایاں جگہ دی گئی تھی۔لہذا اس کے ہٹائے جانے کا افسوس مجھے بھی ہے۔ آپ اس عمل کے خلاف ضرور احتجاج درج کرائیں اور میں بھی اپنے طریقے سے اس معاملے کو دیکھوں گا مگر اس کے ساتھ انہوں نے یہ بات بھی کہی کہ آپ اردو والے جب تک خود اردو سے مضبوط رشتہ نہیں جوڑیں گے ، جب تک اردو کو اس مقام تک نہیں لے جائیں گے جہاں اردو کے بغیر دوسروں کا کام نہ چلتا ہو تب تک صرف زبانی جمع خرچ سے کچھ خاص نہیں ہونے والا ہے۔ کسی کو آپ کی زبان سے کیوں محبت ہوگی جب تک آپ خود اس سے محبت نہیں کریں گے۔ جیتندر تیواری نے یہ بھی کہا کہ ابھی اس تقریب میں شرکت کے لئے جب میں ریلپار میں داخل ہوا تو بےشمار دکانیں نظر آئیں مگر ان میں سے زیادہ تر دکانوں کے سائن بورڈ پر اردو ندارد تھی، اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ موصوف نے کھل کر کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ برسر اقتدار جماعت میں شامل ہو جائیں اور اس کے گن گائیں بلکہ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ حالات پہلے جیسے نہیں ہیں۔ ان حالات میں اگر سامنے والےکودو میل چل کر منزل مل جاتی ہے تو آپ کو پانچ میل چلنا پڑےگا۔حالات ضرور بدلیں گے مگر اس کے لئے ہم سبھوں کو مل کر کوششیں کرنی ہوں گی۔ آج کی اس تقریب کے انعقاد اور میری آمد کا مقصد اسی پیغام کو آپ لوگوں تک پہنچانا تھا۔ تقریب کاآغاز ابوفیضان نے اپنی پیاری آواز میں سارے جہاں اچھا ترانہ سے کیا۔جلسےکی صدارت ڈاکٹر عشرت بیتاب نے کی جبکہ نظامت کے فرائض امتیاز احمد انصاری بحسن و خوبی انجام دئیے۔










