*جب ادب کے ایوارڈ بھی سفارش کے محتاج ہو جائیں!*
تحریر۔ابوشحمہ انصاری
سعادت گنج،بارہ بنکی
ادب کسی تمغے، سند یا اعزاز کا محتاج نہیں ہوتا۔ ادب کی اصل طاقت اس لفظ میں ہوتی ہے جو انسان کے دل میں اتر جائے، اس خیال میں ہوتی ہے جو ذہن کو جھنجھوڑ دے اور اس سچ میں ہوتی ہے جو وقت گزرنے کے بعد بھی اپنی معنویت نہ کھوئے۔ ایک حقیقی ادیب کے لیے سب سے بڑا ایوارڈ اس کا قاری ہے، جو اس کی تحریر پڑھ کر کچھ دیر خاموش رہتا ہے، سوچتا ہے اور پھر اپنے اندر کوئی تبدیلی محسوس کرتا ہے۔ مگر جب ادبی دنیا میں ایوارڈ ہی کامیابی کا سب سے بڑا پیمانہ بن جائے اور اس کے حصول کے لیے تخلیق سے زیادہ تعلقات، سفارش اور خوشامد اہم سمجھی جانے لگے تو سوال اٹھنا لازمی ہے کہ ہم ادب کو عزت دے رہے ہیں یا اعزاز کو ادب سے بڑا بنا رہے ہیں؟
ادبی ایوارڈ کسی بھی زبان اور معاشرے میں حوصلہ افزائی کا ایک خوب صورت ذریعہ ہوتے ہیں۔ کسی شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار، نقاد یا محقق کی برسوں کی محنت کو تسلیم کیا جائے تو یہ صرف ایک فرد کی پذیرائی نہیں ہوتی بلکہ پوری ادبی روایت کی عزت افزائی ہوتی ہے۔ ایک سنجیدہ ایوارڈ نوجوان قلم کاروں کو یہ یقین دلاتا ہے کہ اچھا لکھنے، سچ بولنے اور اپنے فن سے وفادار رہنے کی قدر ہوتی ہے۔ لیکن یہی ایوارڈ اگر میرٹ کے بجائے تعلقات کی بنیاد پر تقسیم ہونے لگیں تو ان کی معنویت آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔
اصل مسئلہ ایوارڈ ملنے کا نہیں، ایوارڈ ملنے کے طریقۂ کار کا ہے۔ اگر ایک ادیب کو اس کی تخلیقی قوت، فکری گہرائی، زبان پر گرفت اور معاشرے پر اس کے ادبی اثر کی بنیاد پر اعزاز دیا جائے تو کوئی صاحبِ قلم اس پر اعتراض نہیں کرے گا۔ لیکن اگر یہ تاثر پیدا ہو کہ فلاں شخص اس لیے آگے ہے کہ اس کے تعلقات مضبوط ہیں، فلاں اس لیے منتخب ہوا کہ اس نے بااثر لوگوں کے دروازوں پر حاضری دی، اور فلاں اس لیے نظر انداز ہوگیا کہ اس نے خوشامد کا راستہ اختیار نہیں کیا، تو پھر سوال صرف ایک ایوارڈ کا نہیں رہتا، پورے نظامِ انتخاب کی ساکھ کا بن جاتا ہے۔
سفارش کا مسئلہ بھی عجیب ہے۔ سفارش اگر کسی ایسے باصلاحیت شخص کی طرف توجہ دلانے تک محدود ہو جس کا کام واقعی قابلِ قدر ہے تو شاید اسے مکمل طور پر غیر معمولی بات نہ کہا جائے۔ دنیا کے ہر شعبے میں کسی نہ کسی سطح پر تعارف اور سفارش موجود رہی ہے۔ اصل خرابی اس وقت شروع ہوتی ہے جب سفارش میرٹ کی جگہ لے لے۔ جب کسی کی کتاب پڑھے بغیر اس کا نام آگے بڑھا دیا جائے، جب کسی کے ادبی مقام کا فیصلہ اس کے حلقۂ احباب سے کیا جائے اور جب ایک باصلاحیت مگر کم تعلقات رکھنے والا قلم کار مسلسل دروازے کھٹکھٹاتا رہ جائے، تو یہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ ادب کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔
خوشامد اس سے بھی زیادہ خطرناک بیماری ہے۔ خوشامد کرنے والا شخص عموماً کسی شخصیت کو خوش کرتا ہے، مگر اس کے بدلے میں پورے ادبی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے۔ وہ سچ بولنے کے بجائے وہی بات کہتا ہے جو سننے والے کو اچھی لگے۔ وہ ہر معمولی تحریر کو شاہکار قرار دیتا ہے، ہر کمزور شاعر کو عظیم شاعر اور ہر معمولی کتاب کو عہد ساز کتاب بنانے پر تُل جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ ایسا ماحول پیدا ہوجاتا ہے جہاں تنقید کو دشمنی اور تعریف کو وفاداری سمجھا جانے لگتا ہے۔ ایسے ماحول میں ادب کی سب سے پہلی قربانی سچ ہوتا ہے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ ہر ایوارڈ یافتہ ادیب کو صرف اس بنیاد پر مشکوک قرار دینا بھی انصاف نہیں۔ بہت سے ایسے اہلِ قلم ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی خاموشی سے ادب کی خدمت میں گزاری اور انہیں اعزاز اس لیے ملا کہ ان کا کام واقعی اس کا مستحق تھا۔ کسی ایوارڈ پر سوال اٹھانا اور ہر ایوارڈ یافتہ شخص کی نیت پر سوال اٹھانا دو الگ باتیں ہیں۔ سنجیدہ ادبی گفتگو کا تقاضا یہی ہے کہ ہم شخصیات کے بجائے اصولوں پر بات کریں اور الزام کے بجائے شفافیت کا مطالبہ کریں۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا ادبی ایوارڈ کے فیصلے کرنے والے افراد کے پاس اتنا وقت اور آزادی ہوتی ہے کہ وہ تمام نامزد کتابوں اور تخلیقات کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کرسکیں؟ کیا انتخابی کمیٹی کے ارکان کے نام، طریقۂ کار اور معیار واضح ہوتے ہیں؟ کیا یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ کسی کتاب کو کیوں منتخب کیا گیا اور کسی دوسری قابلِ ذکر کتاب کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟ اگر ان سوالات کے جواب واضح ہوں تو بہت سے شکوک خود بخود ختم ہوسکتے ہیں۔ شفافیت صرف بدعنوانی روکنے کا ذریعہ نہیں، اعتماد پیدا کرنے کا بھی سب سے مضبوط راستہ ہے۔
ادبی دنیا میں ایک اور المیہ یہ ہے کہ بعض اوقات ایوارڈ کی خواہش خود تخلیق پر غالب آجاتی ہے۔ ادیب لکھنے سے پہلے یہ سوچنے لگتا ہے کہ اس تحریر سے کس حلقے کو خوشی ہوگی، کون اسے پسند کرے گا، کس شخصیت تک اس کی رسائی بنے گی اور کون سا موضوع اسے کسی انعام کے قریب لے جاسکتا ہے۔ جب قلم ان سوالوں کا اسیر ہوجائے تو تخلیق کی آزادی کم ہونے لگتی ہے۔ ادب اگر ایوارڈ کے لیے لکھا جائے تو اس میں وہ بے خوفی کہاں سے آئے گی جو بڑے ادب کی پہلی شرط ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ بڑے ادیب اکثر اپنے زمانے کے مقبول ذوق کے سامنے سر نہیں جھکاتے۔ وہ سوال کرتے ہیں، اختلاف کرتے ہیں، اپنے عہد کی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہیں اور کبھی کبھی اپنے ہی معاشرے کے طاقتور طبقوں کو ناراض کرنے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔ اگر ایسے قلم کار صرف اس لیے پیچھے رہ جائیں کہ انہوں نے خوشامد نہیں کی تو نقصان ان کا نہیں، ادب کا ہوتا ہے۔ ایک معاشرہ اپنے بے خوف قلم کاروں کو جتنا کمزور کرتا ہے، اتنا ہی اپنے فکری مستقبل کو کمزور کرتا ہے۔
اس لیے ضرورت کسی ایک فرد یا ادارے کو نشانہ بنانے کی نہیں، بلکہ پورے ادبی نظام کو بہتر بنانے کی ہے۔ ایوارڈز کے لیے واضح معیار مقرر ہوں، انتخابی عمل زیادہ شفاف ہو، مختلف اصناف اور زبانوں کے حقیقی ماہرین کو شامل کیا جائے، ذاتی تعلقات اور مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے اصول بنائے جائیں اور سب سے بڑھ کر فیصلہ تخلیق کو سامنے رکھ کر کیا جائے، تخلیق کار کے تعلقات کو نہیں۔ اگر کسی ایوارڈ کے فیصلے پر سوال اٹھے تو جواب دلیل سے دیا جائے، خاموشی یا ناراضی سے نہیں ۔
ادب کے میدان میں سب سے خطرناک صورت وہ ہوگی جب نوجوان نسل یہ نتیجہ اخذ کرلے کہ کتاب لکھنے، تحقیق کرنے، برسوں مطالعہ کرنے اور اپنی زبان کے لیے محنت کرنے سے زیادہ ضروری کسی بااثر شخص سے تعلق بنانا ہے۔ اگر یہ سوچ جڑ پکڑ گئی تو آنے والی نسلیں قلم کو خدمت نہیں بلکہ مفاد کا ذریعہ سمجھنے لگیں گی۔ پھر کتابیں تو بہت ہوں گی، مگر کتاب کے پیچھے کھڑا سچا انسان کم ہوتا جائے گا۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں ایوارڈ کی چمک چاہیے یا ادب کی روشنی۔ ایوارڈ چند دن، چند تصویروں اور چند خبروں تک محدود ہوسکتا ہے، مگر اچھی تخلیق نسلوں تک زندہ رہتی ہے۔ وقت کی عدالت میں نہ سفارش کام آتی ہے، نہ خوشامد، نہ کسی تقریب کا پروٹوکول۔ وہاں صرف تخلیق کھڑی ہوتی ہے اور اس کے سامنے اس کا معیار۔ جن کتابوں میں زندگی کی سچائی ہوتی ہے، وہ کبھی کبھی اپنے عہد میں نظر انداز ہوجاتی ہیں، مگر وقت انہیں دوبارہ تلاش کرلیتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ادبی ایوارڈ عزت کی علامت ضرور ہونا چاہیے، عزت خریدنے کا وسیلہ نہیں۔ اگر کوئی شخص واقعی اہل ہے تو اسے سفارش کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے، اور اگر کوئی شخص اہل نہیں تو سفارش اسے بڑا ادیب نہیں بنا سکتی۔ اعزاز کسی ادیب کے مقام کو عارضی طور پر روشن کرسکتا ہے، مگر اس کے قلم کو عظمت نہیں دے سکتا۔ عظمت صرف وہ ادب دیتا ہے جو دل سے نکلے، سچ سے جڑا ہو اور وقت کی کسوٹی پر پورا اترے۔
اس لیے سوال اٹھاتے رہیے، مگر ذمہ داری کے ساتھ۔ ایوارڈز پر گفتگو کیجیے، مگر دلیل کے ساتھ۔ سفارش اور خوشامد کے خلاف آواز بلند کیجیے، مگر کسی بے گناہ پر الزام لگائے بغیر۔ کیونکہ ادب کا سب سے بڑا اعزاز خود ادب کی سچائی ہے۔ اگر ہم نے اس سچائی کو بچا لیا تو ایوارڈ اپنی جگہ باوقار رہیں گے؛ اور اگر سچائی ہار گئی تو دنیا کے بڑے سے بڑا ادبی ایوارڈ بھی صرف ایک خوب صورت فریم، ایک چمکتا ہوا تمغہ اور ایک بھولی ہوئی خبر بن کر رہ جائے گا۔
مضمون نگار،آل انڈیا ماٸنا ریٹیز فورم فار ڈیمو کریسی کے شعبہ نشرو اشاعت کے سیکرٹری ہیں۔










