*جعلی گلوبل انویسٹمنٹ سمٹ کو روک کر رہیں گے: کلواکنٹلہ کویتا*
*جنگل میں ہر کوئی خود کو شیر کہتا ہے، لیکن انہیں قابو میں کرنے والا شکاری آچکا ہے*
*حیدرآباد میں انسانیت پر مبنی تبدیلی نہیں آسکی۔ پینے کا صاف پانی تک فراہم نہ کرنے والے شہر کو عالمی معیار کا شہر قرار دینا معنی خیز*
*گریٹر حیدرآباد کے تینوں کارپوریشنوں میں تلنگانہ رکشنا سینا کا پرچم لہرائیں گے، 300 ڈویژنس سے امیدوار میدان میں اتارنے کا اعلان*

حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے کانگریس حکومت کو خبردار کیا ہے کہ جعلی معاہدوں اور فرضی سرمایہ کاری کے دعوؤں کی بنیاد پر منعقدشدنی نام نہاد گلوبل انویسٹمنٹ سمٹ کو روک کر رہیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گزشتہ سال ریاست میں 6.5 لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری لانے کے حکومت کے دعوے پر وائٹ پیپر جاری کیا جائے بصورت دیگر دسمبر میں منعقد شدنی گلوبل انویسٹمنٹ سمٹ کو روکنے کے لئے جدوجہد کی جائے گی۔ جمعہ کو میاں پور کے نارائن گارڈنس میں ٹی آر ایس کے ’’راجدھانی رن بھیری‘‘ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے واضح کیا کہ حیدرآباد کی ترقی کے لئے سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا جاتا ہے، لیکن جھوٹے دعوؤں اور جعلی سرمایہ کاری کے ذریعہ عوام کو دھوکہ دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔بلدی انتخابات کے پیش نظر جی ایچ ایم سی، سائبرآباد اور ملکاجگری کارپوریشنوں کے پارٹی قائدین اور کارکنوں کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں کویتا نے انتخابی حکمتِ عملی کے سلسلے میں رہنمائی کی۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ گریٹر حیدرآباد کے تینوں کارپوریشنوں میں تلنگانہ رکشنا سینا کا پرچم لہرایاجائےگا اور اعلان کیا کہ پارٹی تینوں کارپوریشنوں کے 300 ڈویژنوں میں اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی۔کویتا نے شہر کی بنیادی سہولتوں کی ابتر صورتحال پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو حکومت عوام کو پینے کا صاف پانی تک فراہم نہیں کر پارہی ہے وہ حیدرآباد کو عالمی معیار کا شہر قرار دے کر تشہیر کررہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایسی حکومت حیدرآباد کو نیویارک اور لندن کی طرز پر ترقی دے سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ شہر میں مناسب سڑکیں، نکاسی آب کا موثر نظام اور پینے کے پانی کی فراہمی تک اطمینان بخش نہیں ہے۔ مچھروں اور آوارہ کتوں کی کثرت ہے لیکن ان مسائل پر توجہ دینے والا کوئی نہیں۔ اسٹریٹ لائٹس کب روشن ہوں گی، اس کا بھی کوئی بھروسہ نہیں، جبکہ بزرگ شہریوں کو تحفظ اور عزت فراہم کرنے کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں اے سی شورومس میں چپلیں فروخت ہورہی ہیں جبکہ سڑکوں پر سبزیاں اور مچھلیاں فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سبزی اور مچھلی فروخت کرنے والوں کو اے سی گاڑیاں فراہم کی جائیں، بستی دواخانوں میں ڈاکٹروں کی تعداد بڑھائی جائے اور ہر ڈویژن میں 24 گھنٹے خدمات انجام دینے والا اسپتال قائم کئےجائیں۔ کویتا نے الزام عائد کیا کہ سڑکوں کی تعمیر، آوارہ کتوں کی روک تھام، کچرے کی نکاسی اور ڈرینیج کی دیکھ بھال سمیت مختلف کاموں میں بدعنوانی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں اب تک انسانیت پر مبنی تبدیلی نہیں آسکی ہے۔ 10 ہزار روپئے تنخواہ حاصل کرنے والا ہو یا ایک لاکھ روپئے کمانے والا، ہر طبقہ کے افراد مختلف مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روپئے کی قدر میں کمی اور حکومتوں کی دوراندیشی کے فقدان کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے بھائیوں کی جانب سے زمینوں پر قبضوں کے باعث حیدرآباد کے اطراف زرعی زمینیں ضائع ہورہی ہیں۔ کسانوں سے حاصل کی گئی زمینوں کو ترقیاتی مقاصد کے بجائے مبینہ بدعنوانی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے باعث اگر آئی ٹی ملازمین کی ملازمتیں خطرے میں پڑتی ہیں تو ان کی مدد کے لئے حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے۔ کویتا نے یقین دلایا کہ حیدرآباد کو آئی ٹی مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے آئی ٹی ملازمین کے ساتھ تلنگانہ رکشنا سینا کھڑی رہے گی۔
کویتا نے الزام لگایا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی نظر حیدرآباد میں کچرا جمع کرنے والے 50 ہزار ملازمین پر ہے اور حکومت ان ملازمین کو نقصان پہنچا کر رامکی کمپنی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ان ملازمین کے روزگار اور مفادات کو نقصان پہنچایا گیا تو ان کے 50 ہزار خاندانوں کا کیا ہوگا؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ملازمین کو نقصان پہنچایا گیا تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے بلکہ چیف منسٹر کی رہائش گاہ کے سامنے کچرا ڈالکر احتجاج کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں نئی سرکاری اسکول کی عمارتیں تعمیر نہیں کی جارہی ہیں اور الزام عائد کیا کہ اس طرح فائدہ کارپوریٹ اسکولوں کو پہنچایا جارہا ہے۔ کویتا نے کہا کہ سمندر نہ ہونے کے باوجود نظام حکمرانوں نے حیدرآباد کو ’’پرل سٹی‘‘ کے طور پر ترقی دی تھی لیکن موجودہ چیف منسٹر عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ بریانی، ایرانی چائے اور موتیوں کے لئے مشہور شہر کو مچھروں کی آماجگاہ اور کتوں کے کاٹنے کے واقعات کے مرکز میں تبدیل کردیا گیا ہے۔کویتا نے سیاسی حریفوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس خود کو شیر اور کانگریس خود کو ببر شیر قرار دیتی ہے، لیکن انہیں قابو کرنے والا شکاری یعنی ٹی آر ایس آچکی ہے، اس بات کو یاد رکھنا چاہئے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو مشورہ دیا کہ عوام کے لئے بہت کچھ کرنا باقی ہے، اس لئے نظم و ضبط اور محنت کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ رکن اسمبلی یا رکن پارلیمنٹ بننا چاہتے ہیں، انہیں عوام میں یہ اعتماد پیدا کرنا چاہئے کہ ان کے ذریعہ عوام کے ساتھ انصاف ہوگا۔انہوں نے یقین دلایا کہ تلنگانہ رکشنا سینا کے اقتدار میں آنے کے بعد حیدرآباد میں تمام بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی اور عوام کو مفت تعلیم اور مفت طبی سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔ انہوں نے مخالف جماعتوں کو خبردار کیا کہ عوام کے لئے کام کرنے والی ان کی پارٹی سے الجھنے کی کوشش نہ کریں۔ کویتا نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ گلی گلی پہنچ کر تلنگانہ رکشنا سینا کی پالیسیوں سے عوام کو واقف کروائیں۔
کویتا نے اعلان کیا کہ تلنگانہ رکشنا سینا کے اقتدار میں آنے کے بعد نوجوانوں کو 2 لاکھ روپئے سے لے کر 20 کروڑ روپئے تک قرض فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو سیاست میں آگے آنا چاہئے کیونکہ خواتین کی شمولیت سے ہی سیاست میں تبدیلی ممکن ہے۔کویتا نے سیاسی قائدین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کسی کے غلام بننے کے بجائے وہ عوام کے غلام بنیں، خادم بنیں۔ کویتا نے مطالبہ کیا کہ پرانے شہر کے عوام سے کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے، لیکن تلنگانہ رکشنا سینا مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرے گی۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو مشورہ دیا کہ نئی پارٹی ہونے کے باوجود انہیں دوسری جماعتوں کے مقابلے میں دس گنا زیادہ محنت کرنی ہوگی۔










