*ریاست میں ایس آئی آر عمل پر تشویش،*
*شفافیت اور عوامی اعتماد کو یقینی بنانے ٹی آر ایس لیڈر حامد علی کا مطالبہ*
حیدرآباد: ریاست تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) عمل کے حوالے سے مختلف طبقات کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹ کو درست بنانے ڈپلیکیٹ اور غیر مستحق ناموں کو حذف کرنے اور اہل شہریوں کو شامل کرنے کے لیے انجام دیا جا رہا ہے تاہم زمینی سطح پر کئی سنگین مسائل سامنے آ رہے ہیں جو فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار تلنگانہ رکشنا سینا کے اقلیتی لیڈر حامد علی نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق شہری علاقوں، خاص طور پر حیدرآباد میں اس عمل میں تاخیر، انتظامی کمزوریاں اور فارم کی تقسیم میں رکاوٹیں دیکھی جا رہی ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں صورتحال نسبتاً بہتر بتائی جا رہی ہے۔ مزید برآں بڑی تعداد میں ووٹرز کے ریکارڈ میں خامیاں جیسے پتہ کی تبدیلی، ناموں کا غائب ہونا یا غلط اندراج، اس پورے عمل کو متاثر کر رہے ہیں جس سے عوام میں بے چینی اور عدم اعتماد پیدا ہو رہا ہے۔
حامد علی نے مزید بتایا کہ ابتدائی جائزوں میں لاکھوں ووٹرز کے ڈیٹا میں بے ضابطگیاں سامنے آنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شہری علاقوں میں اس عمل کی درستگی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے بھی شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس پورے عمل کو صاف منصفانہ اور عوام کے اعتماد کے مطابق بنایا جائے۔ اس ضمن میں عوام کو یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر جا کر اپنے متعلقہ بی ایل او (BLO) کی تفصیلات حاصل کریں تاکہ کسی بھی غلطی یا کوتاہی کی فوری نشاندہی کی جا سکے۔ ایسے افراد جن کے پاس تاحال بی ایل اوز نہیں پہنچے ہیں وہ اسی ویب سائٹ یا ایپ کے ذریعہ بی ایل او کا نمبر حاصل کرتے ہوئے رابطہ قائم کریں تاکہ ان کے مسائل کا بروقت حل نکالا جا سکے۔ مزید یہ کہ مقامی عوامی نمائندوں اور قائدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عمل میں ہر شہری کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور شفافیت کو یقینی بنائیں۔ اس بات کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ بعض مقامات پر تعلقات کی بنیاد پر بی ایل اوز کو مخصوص علاقوں تک محدود رکھا جا رہا ہے جس سے عوام میں مزید بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ ایسے طرز عمل کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ آخر میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت اور الیکشن حکام فوری طور پر اس عمل کو مزید شفاف بنائیں، عوام کو مکمل معلومات فراہم کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی اہل ووٹر اپنے بنیادی جمہوری حق سے محروم نہ ہو کیونکہ یہ محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ جمہوریت کے استحکام کا بنیادی ستون ہے۔










