سربراہی سے سرپرستی تک کا سفر
محمد ہاشم القاسمی (خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال) فون 9933598528
کسی بھی منصب، عہدے یا ادارے کی سربراہی سے بروقت دستبردار ہونا ہمیشہ کمزوری کی علامت نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات یہی دانشمندانہ فیصلہ قیادت کا سب سے بڑا جوہر ثابت ہوتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ اور منظم ادارے اس بنیادی حقیقت کو بہت پہلے تسلیم کر چکے ہیں کہ کوئی بھی انسان کتنا ہی ذہین، مدبر، تجربہ کار اور مخلص کیوں نہ ہو، وہ زندگی بھر ایک جیسی ذہنی توانائی، فیصلہ کن صلاحیت اور حالات کا ادراک کرنے کی سکت برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اسی لیے دنیا بھر کے کارپوریٹ، سیاسی اور سائنسی اداروں میں عمر، کارکردگی کی مدت اور جانشینی کے اصول طے کیے جاتے ہیں تاکہ تسلسل بھی قائم رہے اور نئے خون کو آگے آنے کا موقع بھی ملے۔
مذہبی و سماجی اداروں کا تضاد
ہمارے مذہبی، سماجی، تعلیمی اور بعض علمی اداروں کا ماحول اس فطری اصول کے بالکل برعکس ہے۔ ہمارے ہاں امام، مفتی، ناظم، صدر، مہتمم یا سربراہ جیسے حساس عہدوں پر بیٹھنے والا شخص منصب کو ایک عارضی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے اپنی ذاتی شناخت اور انا کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ اس کے نزدیک عہدہ چھوڑنا گویا اپنی عزت اور وقار کا جنازہ نکالنے کے مترادف بن جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ایسا فرد جو کبھی اپنی صلاحیتوں اور خدمات کے بل بوتے پر ادارے کا قیمتی سرمایہ ہوا کرتا تھا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خود اسی ادارے کی ترقی اور بقا کی راہ میں سب سے بڑی دیوار بن جاتا ہے۔
تجربے کا سرمایے سے رکاوٹ بننے کا سفر
یہ حقیقت کسی فرد واحد کی تحقیر نہیں بلکہ انسانی فطرت کا ایک کائناتی اصول ہے۔ عمر کے اضافے کے ساتھ تجربہ تو بڑھتا ہے، مگر ہر آنے والے نئے دور کے تقاضوں اور مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت اسی رفتار سے پروان نہیں چڑھتی۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان کا طویل تجربہ حکمت بننے کے بجائے محض ایک بے لچک عادت میں ڈھل جاتا ہے۔ وہ نئے اور پیچیدہ سوالات کو اپنے پرانے اور فرسودہ جوابات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے، دورِ جدید کے تقاضوں کو اپنے ماضی کے پیمانوں پر پرکھتا ہے، اور ہر فکری اختلاف کو اصلاح کے زمرے میں دیکھنے کے بجائے اپنی ذات پر حملہ یا بغاوت سمجھ بیٹھتا ہے۔ یہیں سے اصل فکری کشمکش کا آغاز ہوتا ہے۔
فکری جمود اور نسلوں کا تصادم
جب نظام فرسودہ ہو جائے تو مکالمے کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ ایک نوجوان نسل کا کوئی فرد جب سوال اٹھاتا ہے کہ “یہ روایتی طریقہ اب کیوں کارآمد نہیں اور نیا راستہ کیوں اپنایا جائے؟” تو بوڑھا اور جمود کا شکار نظام بے نیازی سے جواب دیتا ہے، “ہم تو ہمیشہ سے ایسے ہی کام چلاتے آئے ہیں۔” یہ جملہ کسی گہرے شعوری تجربے کا عکاس نہیں ہوتا بلکہ فکری بانجھ پن اور جمود کا استعارہ ہوتا ہے۔ تجربہ صرف اس وقت تک قابلِ قدر ہے جب وہ نئی نسل کو منزل کا پتہ دے، لیکن اگر تجربہ نئی نسل کو خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور نیا راستہ بنانے ہی نہ دے، تو وہ سرمایہ نہیں بلکہ زہرِ قاتل بن جاتا ہے۔
جانشینی کے بحران اور خوشامدی حصار
ادارے افراد کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ افراد اداروں کی آبیاری کے لیے آتے ہیں۔ اصل نقصان یہ نہیں کہ ایک بوڑھا شخص کرسی پر براجمان ہے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ اس کی غیر ضروری طویل موجودگی کے باعث اگلی صف کے نوجوانوں کو فیصلہ سازی، قیادت اور تجربہ حاصل کرنے کا کوئی موقع نہیں ملتا۔ جب کوئی نوجوان برسوں یہ دیکھتا ہے کہ منصب خالی ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا، تو وہ یا تو مایوس ہو کر اس میدان سے ہمیشہ کے لیے کنارہ کش ہو جاتا ہے، یا پھر مجبوری کے تحت اسی فرسودہ اور بیمار نظام کا حصہ بن جاتا ہے جس پر وہ کل تک تنقید کیا کرتا تھا۔ اس طرح قیادت کی صحت مند منتقلی کا سلسلہ رک جاتا ہے۔ اس پورے زوال کو وہ خوشامدی ٹولہ مزید تقویت دیتا ہے جو ہمیشہ سربراہ کے گرد پروان چڑھتا ہے اور ہر روز کانوں میں یہ رس گھولتا ہے:
”حضرت! آپ جیسا مدبر اس دور میں کوئی نہیں ہے۔”
”آپ کے بعد اس منصب کو سنبھالنے والا کوئی مائی کا لعل پیدا ہی نہیں ہوا۔”
”آپ ہی اس امت کی آخری اور واحد امید ہیں۔”
بظاہر محبت اور عقیدت پر مبنی یہ جملے دراصل اس قدر خطرناک زہر ہیں کہ مسلسل سماعت کے بعد سربراہ کی خود احتسابی کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ تنقید کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور انسان تعریفوں کے ایک مصنوعی حصار میں قید ہو کر رہ جاتا ہے۔
ریٹائرمنٹ: شکست نہیں، ایک ایثار
عہدے سے سبکدوشی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بزرگ افراد اب کسی مصرف کے نہیں رہے یا معاشرہ ان کی خدمات سے بے نیاز ہو گیا ہے۔ اس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ بزرگ اب انتظامی دباؤ سے نکل کر سرپرست، مشیر، استاد اور فکری مرجع کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ایک دانا بزرگ اپنی زندگی کا آخری حصہ کرسی کا بوجھ اٹھائے بغیر نئی نسل کی تربیت اور فکری رہنمائی میں گزارے، جو کہ زیادہ باوقار، پُرسکون اور مفید طریقہ ہے۔ قیادت کا اصل معیار یہ نہیں کہ کوئی شخص کتنے طویل عرصے تک کرسی پر جمی رہا، بلکہ اس کا حقیقی کمال یہ ہے کہ وہ اپنے پیچھے کتنے قابل، لائق اور بہترین جانشین تیار کر کے دنیا سے رخصت ہوا۔ اگر کوئی شخص تیس سال تک کسی ادارے کا سربراہ رہے، لیکن اس کے جانے کے بعد ادارہ ایک خوفناک جانشینی کے بحران میں مبتلا ہو جائے، تو یہ اس کی طویل کامیابی نہیں بلکہ اس کے تربیتی نظام کی بدترین ناکامی ہے۔ ***










