Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*فارما سٹی کے لئے حاصل کردہ اراضیات فی الفور واپس کی جائیں*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*فارما سٹی کے لئے حاصل کردہ اراضیات فی الفور واپس کی جائیں*

*فیوچر سٹی کے نام پر غریبوں کی زمینیں چھیننے کی کوششیں قابل قبول نہیں*

*متاثرین اور احتجاجی کسانوں کی مکمل تائید و حمایت کا اعلان: کے کویتا*

بشیر باغ پریس کلب میں “فارما سٹی میں کیا ہو رہا ہے” کے عنوان پر  راؤنڈ ٹیبل کانفرنس منعقد ہوئی ۔جس میں تلنگانہ رکشنا سینا (ٹی آر ایس) کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے شرکت کی اور احتجاجی کسانوں اور متاثرین کی مکمل تائید و حمایت کا اعلان کیا۔کویتا نے کہا کہ فارما سٹی کے نام پر حاصل کی گئی زمینیں فوری طور پر کسانوں کو واپس کی جائیں اور “فیوچر سٹی” کے نام پر جبری اراضی کا حصول کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسانوں کو انصاف ملنے تک وہ خود اس جدوجہد کی قیادت کریں گی۔انہوں نے حکومت پر شدید تنقید کی اورکہا کہ موجودہ حکومت عوام کو سچ بتانے سے بھی قاصر ہے۔ کابینہ اجلاس میں کسانوں کی فصل خریدنے میں مشکلات کا اعتراف کیا گیا، مگر اس حقیقت کو عوام سے چھپایا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے دانستہ طور پر خریداری سے بچنے کے لئے وزراء کی کمیٹی تشکیل دی ہے۔کویتا نے کہا کہ خریداری مراکز پر کسان اپنی فصلوں کے ڈھیر کے پاس ہی جان گنوا رہے ہیں، مگر حکومت بے حس بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اہم فیصلے خفیہ طور پر لے رہی ہے اور عوام کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے سابقہ حکومت اور موجودہ کانگریس حکومت دونوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فارما سٹی کے لئے 13,500 ایکڑ زمین حاصل کرنے کے دعوے کئے گئےجبکہ بڑے پیمانے پر اسائنڈ زمینیں زبردستی لی گئیں۔ عدالت کی جانب سے حکم التواء کے باوجود حکومتیں آگے بڑھتی رہیں۔انہوں نے کہا کہ اب “فیوچر سٹی” کے نام پر 30 ہزار ایکڑ زمین حاصل کرنے کی بات کی جا رہی ہے، مگر نہ روزگار کی وضاحت ہے، نہ ماحولیاتی اثرات کی، اور نہ ہی کسانوں کے مستقبل کا کوئی واضح منصوبہ۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ زمینوں کو پلاٹس میں تقسیم کر کے بڑی کمپنیوں کے حوالے کیا جائے گا۔کویتا نے ڈیٹا سنٹرس کے قیام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے آلودگی اور شور میں اضافہ ہوگا، جبکہ دنیا کے کئی ممالک میں اس پر پابندیاں عائد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں سے زمین لے کر معمولی معاوضہ دینا ان کے روزگار کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اراضی حصول میں امتیاز برتا جا رہا ہے، بڑے زمینداروں کو چھوڑ کر قبائلیوں کی زمینیں لی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تلنگانہ رکشنا سینا قبائلیوں اور کسانوں کی اس جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔کویتا نے کہا کہ حکومتوں کو سبق سکھانے کے لئے سخت جدوجہد ناگزیر ہے اور وہ خود اس تحریک میں صفِ اول میں رہیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک مسئلہ حل نہیں ہوتا، احتجاج جاری رکھا جائے گا۔آخر میں انہوں نے اعتراف کیا کہ سابقہ حکومت میں بھی کسانوں اور جہدکاروں کو نقصان ہوا، جس پر وہ معذرت خواہ ہیں، مگر اب انصاف کے حصول تک بھرپور لڑائی لڑی جائے گی۔