Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*میٹ دی پریس پروگرام سے کلواکنٹلہ کویتا کا خطاب*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*تلنگانہ کی ہمہ جہت ترقی اور سماجی انصاف کے لئے جدوجہد کا عزم مصمم*

*ماں کی شفقت جیسی قیادت کا عزم، ہر فرد کو مکمل انصاف*

*ہدف کے حصول کے لئے پانچ نکاتی فارمولہ کی پیشکشی*

*عوام سے تلنگانہ رکشنا سینا سے وابستہ ہونے کی اپیل*

*فریضۂ حج کے لیے روانہ ہونے والے عازمین کو کویتا کی مبارکباد*

*کانگریس کی اقتدار سے بے دخلی تک چین سے نہ بیٹھنے کا اظہار*
*میٹ دی پریس پروگرام سے کلواکنٹلہ کویتا کا خطاب*

حیدرآباد: بشیر باغ پریس کلب میں ٹی یو ڈبلیو جے کے زیر اہتمام منعقدہ “میٹ دی پریس” پروگرام میں تلنگانہ رکشنا سینا کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ پہلے ہی اعلان کر چکی تھیں کہ وہ تلنگانہ میں ایک نئی سیاسی طاقت کے طور پر آئیں گی اور آج وہ اپنے اس وعدہ کو عملی جامہ پہنا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے  “تلنگانہ رکشنا سینا” کے نام سے ایک سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ 20 برسوں سے جاری تلنگانہ جاگروتی ایک رضاکارانہ تنظیم کے طور پر اپنی خدمات جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے تمام طبقات کے مسائل پر تلنگانہ رکشنا سینا آواز اٹھائے گی اور جدوجہد کرے گی۔ تلنگانہ کے قیام کے بعد ان کا خواب “سروودیہ تلنگانہ” تھا اور اب وہ اسی مقصد کے تحت آگے بڑھ رہی ہیں تاکہ ہر فرد کی زندگی میں خوشحالی اور روشنی لائی جا سکے۔ اس ہدف کے حصول کے لئے انہوں نے “پانچ جنیم” کے نام سے پانچ اہم نکات پیش کئے ہیں، جس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح شری کرشن نے ادھرم کے خلاف جنگ کے لئے پانچ جنیم کا نقارہ بجایا تھا اسی جذبہ کے ساتھ وہ بھی ان پانچ نکات پر عمل کریں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے اور اقتدار میں آنے کے بعد بھی ان نکات پر ان کی توجہ مرکوز رہے گی۔کویتا نے کہا کہ ریاست میں بیشتر خاندان اپنی آمدنی کا تقریباً 60 فیصد تعلیم اور علاج پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے بچت یا ہنگامی حالات کے لئے ان کے پاس وسائل باقی نہیں رہتے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت مفت تعلیم فراہم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن 75 فیصد عوام اب بھی خانگی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس لئے وہ نجی اداروں میں پڑھنے والوں کو بھی مکمل طور پر مفت تعلیم فراہم کریں گی اور یہ مکمل طور پر تمام امور کا جائزہ لینے کے بعد ہی اعلان کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی 20 سالہ عوامی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے وعدوں پر قائم رہی ہیں۔انہوں نے صحت کے شعبہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی بڑی رقم علاج پر خرچ ہو رہی ہے۔ آروگیہ سری اسکیم کے تحت اب 10 لاکھ روپئے تک کی مدد دی جا رہی ہے حالانکہ ابتدا میں 2 لاکھ بھی ممکن نہیں سمجھے جاتے تھے مگر آج یہ ممکن ہوچکا ہے۔ اسی طرح طلبہ کے لئے مفت کھانے کا نظام بھی کامیابی سے نافذ ہوا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ریاست میں کئی افراد محض 3 لاکھ روپئے نہ ہونے کی وجہ سے کینسر کا علاج نہیں کرا پاتے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جبکہ دنیا بھر میں لوگوں کی عمر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ رکشنا سینا کی حکومت عوام کو علاج ومعالجہ کی سہولت کی فراہمی کے  خصوص میں کوئی کسر باقی نہیں رکھے گی۔انہوں نے کسانوں کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کسان کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور انہیں عزت و وقار ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی کئی مقامات پر دھان خریداری مراکز نہ کھلنے کے باعث کسان احتجاج پر مجبور ہیں جبکہ برآمدات کی گنجائش ہونے کے باوجود حکومت اس پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک کسان کئی دنوں تک مکئی کی فروخت کے لئے مرکز پر بیٹھا رہا اور اگلے دن وہیں انتقال کر گیا جو اس بات کی علامت ہے کہ ملک میں کسان کی جان کی قدر نہیں رہی۔انہوں نے روزگار کے مسئلہ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں روزگار ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے اور حکومت نوجوانوں کی خواہشات کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک میں نوجوانوں کے خیالات کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جس کے باعث وہ کم عمری میں ہی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے 18 تا 25 سال کے نوجوانوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت 25 تا 45 سال کے افراد کو بھی 2 لاکھ سے 20 کروڑ روپئے تک قرض فراہم کرے گی تاکہ وہ روزگار دینے والے بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست سے بھی گوگل اور واٹس ایپ جیسی کمپنیاں ابھرنی چاہئیں۔کویتا نے کہا کہ سرکاری محکمہ جات میں بڑی تعداد میں آسامیاں مخلوعہ ہیں۔ خاص طور پر ایس سی، ایس ٹی اور معذور طبقات کے لئے بیک لاگ پوسٹس کو پر کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بزرگ شہریوں کے لئے خصوصی محکمہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 65 سال سے زائد عمر کے افراد کو بھی بینکوں سے قرض نہیں دیا جا رہا ہے جو
افسوسناک ہے اور ان کی حکومت اس کے لئے خصوصی اقدامات کرے گی۔ انہوں نے چار لاکھ ملازمتوں کی فراہمی کے لئے مکمل منصوبہ بندی  کا بھی دعویٰ کیا۔انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف ان کے پانچویں اہم نکات میں شامل ہے جس کے تحت ہر طبقہ، بشمول غریب، معذور، سابق فوجی اور دیگر افراد کو رہائش فراہم کرنا بھی سماجی انصاف کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماں جیسی حکمرانی کے ذریعہ ہی عوام کو حقیقی انصاف دیا جا سکتا ہے جبکہ موجودہ حکومت میں اس طرح کی سوچ کا فقدان ہے۔ انہوں نے معذور افراد کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور بنیادی سہولیات کی کمی پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔کویتا نے مزید کہا کہ ایس سی سب پلان کے تحت 19 ہزار کروڑ، ایس ٹی سب پلان کے تحت 9 ہزار کروڑاور بی سی طبقات کے لئے اعلان کردہ 20 ہزار کروڑ میں بڑی رقم خرچ نہیں کی جارہی ہے۔ اقلیتوں کے لئے اعلان کردہ 4 ہزار کروڑ میں سے بھی نصف رقم خرچ نہیں کی گئی اور کرسچن و سکھ اقلیتوں کو کچھ بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
اقلیتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے، بالخصوص کانگریس کے ڈھائی سالہ دور حکومت میں ان کے ساتھ شدید ناانصافی روا رکھی گئی۔ اقلیتوں کے لیے 4 ہزار کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تاہم اس میں سے خاطر خواہ رقم بھی خرچ نہیں کی گئی۔ ریونت ریڈی مسلم تحفظات جیسے اہم مسئلے پر بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں سے متعدد وعدے کیے لیکن عملدرآمد کے معاملے میں کارکردگی مکمل طور پر صفر رہی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت عوام کے حقوق ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے  تلنگانہ کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ رکشنا سینا کا ساتھ دیں تاکہ انہیں انصاف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تحریک کے کارکنوں کے لئے ایک لاکھ “سپر نیومری جابس” فراہم کریں گی اور ان کی نگرانی بھی ان ہی کے ذریعہ کروائی جائے گی۔ کویتا نے بے گھر افراد اور زمین سے محروم لوگوں کے لئے بھی انصاف اور قانونی مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو عوام کے سامنے لائیں۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگار نوجوانوں کو جاب کیلنڈر کے نام پر دھوکہ دیا گیا اور انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہی نوجوان حکومت کو اقتدار سے بے دخل کریں گے۔کویتا نے خواتین کے تحفظ، بڑھتے جرائم، فرقہ وارانہ تشدد اور پولیس زیادتیوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ریاست میں 2 ہزار عصمت دری کے معاملات درج ہوئے، یعنی روزانہ تقریباً 7 واقعات پیش آ رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے غریبوں کے مکانات مسمار کئے جا رہے ہیں جبکہ بااثر افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ فارما سٹی زمینوں کے معاملے پر بھی انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ سکریٹریٹ بھی نہیں جاتے اور مختلف مقامات سے جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہیں۔آخر میں کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ہم آئندہ ایک ہزار دن تک مسلسل عوام کے درمیان رہ کر جدوجہد کریں گے اور اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک کہ موجودہ حکومت کو اقتدار سے بے دخل نہیں کر دیتے۔ اس موقع پر کلواکنٹلہ کویتا نے ریاست سے فریضۂ حج کی ادائیگی کے لئے روانہ ہونے والے عازمین کو دلی مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے عازمین کا مقدس سفر  آسان و سہل اور خیروعافیت سے مکمل ہونے کے لئے دعا بھی کی۔انہوں نے عازمین حج سے اپیل کی کہ وہ حج کے موقع پر ان کی نئی سیاسی جماعت اور ریاست کی ترقی کے ساتھ ساتھ امن و امان کی برقراری کے لئے خصوصی دعا کریں۔