Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*کونسل کےحلقہ جات گریجویٹ کے انتخابات کے لئے ووٹر رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کی جائے*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*کونسل کےحلقہ جات گریجویٹ کے انتخابات کے لئے ووٹر رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کی جائے*

*نامزدگیوں کے ادخال تک گریجویٹس کو ووٹر کے طور پر اندراج کا موقع فراہم کیا جائے*

*تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر سدرشن ریڈی سے تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کے کویتا کی نمائندگی*

*بڑے تعلیمی اداروں کے ذریعہ انتخابات کو جانبدار بنانے کی کوششوں پر الیکشن کمیشن سے رجوع ہونے کا اعلان*

*حیدرآباد:* تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے کونسل کے حلقہ جات  گریجویٹ کے انتخابات کے لئے ووٹر رجسٹریشن کی آخری تاریخ میں توسیع کرنے اور نامزدگیوں کے ادخال تک گریجویٹس کو ووٹر کے طور پر اندراج کا موقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں کویتانے حیدرآباد کے بی آر کے  بھون میں تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) سدرشن ریڈی سے ملاقات کی اور تفصیلی نمائندگی کی۔بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ ریاست کے تقریباً دو تہائی حصے میں کونسل کے حلقہ جات گریجویٹ کے خصوص میں  انتخابی ماحول ہے۔گریجویٹ طبقہ سوچ سمجھ کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتا ہے اور یہ انتخابات حکومت کی کارکردگی اور اپوزیشن جماعتوں کے طرز عمل کا جائزہ لینے کا ایک اہم موقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی سیاسی جماعتوں کے لئے بھی یہ انتخابات اپنا ایجنڈہ عوام کے سامنے پیش کرنے کا ایک اچھا موقع ہیں۔کویتا نے کہا کہ گریجویٹ ایم ایل سی انتخابات کے لئے ووٹر رجسٹریشن کی آخری تاریخ 6 نومبر مقرر کی گئی ہے جبکہ ایس آئی آر کا عمل 21 نومبر تک جاری رہے گا۔ ایسے میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ گریجویٹ ووٹر رجسٹریشن کی مدت میں بھی توسیع کی جائے اور نامزدگیوں کے ادخال تک اندراج کا عمل جاری رکھا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف الیکٹورل آفیسر نے اس مطالبہ پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے سابقہ چھ متحدہ اضلاع میں یہ انتخابات منعقد ہونے جارہے ہیں لہٰذا جین زی سمیت تمام گریجویٹس کو اس انتخابی عمل کو سنجیدگی سے لینا چاہئے اور اپنے نام ووٹر فہرست میں درج کروانے چاہئیں۔ انہوں نے نوجوانوں اور تعلیم یافتہ طبقہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے جمہوری حق سے فائدہ اٹھائیں۔کویتا نے بتایا کہ تلنگانہ رکشنا سینا  پارٹی کےرجسٹریشن کا معاملہ دہلی میں زیر التوا ہے۔ انہوں نے چیف الیکٹورل آفیسر سے درخواست کی کہ ریاست میں پارٹی کی سرگرمیوں، کمیٹیوں کی تشکیل اور بڑے پیمانے پر جاری تنظیمی کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے اس سلسلہ میں رپورٹ مرکزی الیکشن کمیشن کو روانہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ رکشنا سینا قومی دھارے کی بڑی سیاسی جماعتوں کے مقابلہ میں اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے کے لئے مسلسل سرگرم ہے اور ان کوششوں کو بھی دہلی تک پہنچایا جانا چاہئے۔کویتا نے کہا کہ ہر ایم ایل سی انتخابات کے موقع پر گریجویٹس کو دوبارہ ووٹر رجسٹریشن کروانے کی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے باعث امیدواروں کو بھی بھاری اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے بعض بڑے تعلیمی اداروں کے ذمہ داران پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے طلبہ کے ذریعہ انتخابی عمل کو جانبدار بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کویتا نے کہا کہ اس مسئلہ کو الیکشن کمیشن کے علم میں لایا جائے گا تاکہ انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنایا جاسکے۔