Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*ادب سرائے کی تعزیتی نشست میں پروفیسر شاہد حسین کو پُرخراجِ عقیدت*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*ادب سرائے کی تعزیتی نشست میں پروفیسر شاہد حسین کو پُرخراجِ عقیدت*

لکھنؤ: (ابوشحمہ انصاری)شہرِ نگاراں کی معروف ادبی و ثقافتی تنظیم “ادب سرائے” کے زیرِ اہتمام جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی کے سابق صدر شعبۂ اردو اور ممتاز ناقدِ ادب پروفیسر محمد شاہد حسین کی رحلت پر ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی، جس میں ادیبوں، اساتذہ، محققین اور دانشوروں نے شرکت کرکے مرحوم کی علمی، ادبی اور تدریسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
نشست کی صدارت امریکن انسٹیٹیوٹ آف انڈین اسٹڈیز کے سربراہ ڈاکٹر احتشام خان نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ پروفیسر شاہد حسین اردو ڈراما کے معتبر ناقد، شفیق استاد اور نہایت شریف النفس انسان تھے۔ وہ ہمیشہ طلبہ کی رہنمائی کے لیے تیار رہتے تھے، اسی سبب وہ شاگردوں میں بے حد مقبول تھے۔
خواجہ معین الدین چشتی لسانی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے وابستہ ڈاکٹر وصی احمد اعظم انصاری نے مرحوم کی شفقت، محبت اور فیاضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے نگراں رہے، مگر ایک استاد سے بڑھ کر ہمدرد اور مخلص رہنما تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کا دروازہ طلبہ کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔
اسی شعبہ کے استاد ڈاکٹر مرتضیٰ علی اطہر جائسی نے کہا کہ پروفیسر شاہد حسین نے یونیورسٹی میں اردو ماس میڈیا کورس کے قیام، فروغ اور مقبولیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں اردو صحافت، میڈیا، فلم اور ٹی وی سے وابستہ متعدد صحافی، اینکر، رپورٹر اور ادیب تیار ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ اردو زبان میں میڈیا کا یہ پہلا ڈپلومہ کورس تھا، جو نہایت مؤثر اور کارآمد ثابت ہوا۔
سدھارتھ سدیپ نے اپنے پی ایچ ڈی وائوا کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر شاہد حسین ایکسٹرنل ایگزامنر کی حیثیت سے آئے تھے اور انہوں نے انتہائی مشفقانہ اور حوصلہ افزا انداز میں سوالات کیے، جس سے ان کی انسان دوستی اور طلبہ نوازی کا اندازہ ہوتا ہے۔
ادب سرائے کے بانی اور فخرالدین علی احمد گورنمنٹ پی جی کالج کے شعبۂ اردو سے وابستہ ڈاکٹر منتظر قائمی نے مرحوم سے وابستہ یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سبکدوشی کے بعد دہلی میں واقع ان کی رہائش گاہ پر اردو ڈراما اور واجد علی شاہی رہس پر طویل گفتگو ہوئی تھی۔ اس موقع پر مرحوم نے اپنی دستخط شدہ کتاب “اندر سبھا” بطور تحفہ پیش کی، جو ڈراما اور رہس کی تفہیم میں ایک اہم علمی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو ابلاغیات، اردو ڈراما اور تنقیدی ادب کے میدان میں پروفیسر شاہد حسین کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
تعزیتی نشست میں ڈاکٹر عصمی صدیقی، ڈاکٹر مدبر قمر، کاظمی فاطمہ، ریاض احمد، عاطف انور صدیقی اور گری انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ڈاکٹر منظور علی سمیت متعدد اہلِ علم و ادب موجود تھے۔
آخر میں مرحوم کے اہلِ خانہ اور وابستگان سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعا کی گئی۔