**علماء و ائمہ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کی جائے گی، عیدگاہ والی مسجد میں منعقدہ اہم نشست میں سخت کارروائی کا فیصلہ**
**شہر کے ائمہ کرام کا مشاورتی اجلاس؛ الیکشن کے بعد دوبارہ سر جوڑنے کا عزم**
**(نمائندہ خصوصی)**
گزشتہ روز عیدگاہ والی مسجد میں شہر کے ائمہ کرام اور جید علماء کا ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر کی کثیر تعداد میں دینی قیادت نے شرکت کی۔ یہ نشست انتہائی کامیاب رہی، جہاں موجودہ حالات اور بالخصوص علماء کی عزت و ناموس کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں شریک تمام ائمہ نے اپنے مفید مشوروں سے نوازا اور اتحاد و اتفاق کی اہمیت پر زور دیا۔ نشست میں متفقہ طور پر یہ طے پایا کہ جو عناصر یا شخص سوشل میڈیا یا کسی بھی پلیٹ فارم پر ائمہ و علماء کی شان میں گستاخی اور نازیبا زبان استعمال کر رہے ہیں، ان کے خلاف سخت موقف اپنایا جائے گا۔
**طے پانے والے اہم نکات:**
1. **پہلا مرحلہ (افہام و تفہیم):** علماء کی شان میں گستاخی کرنے والے شخص سے براہِ راست رابطہ کیا جائے گا اور اسے اس قبیح فعل کی سنگینی سے آگاہ کرتے ہوئے توبہ کرنے اور اس سے فوری اجتناب کرنے کی تلقین کی جائے گی۔
2. **سخت کارروائی کی وارننگ:** اگر وہ شخص اپنی روش سے باز نہیں آتا اور اس حرکت کو جاری رکھتا ہے، تو اس کے خلاف قانونی و سماجی طور پر سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
3. **تسلسل کا عزم:** اس مشاورتی عمل کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ موجودہ انتخابی سرگرمیوں کے پیشِ نظر اگلی نشست الیکشن کے فوراً بعد طلب کی جائے گی، جس میں مزید اہم فیصلے اور لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ منبر و محراب کی پامالی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی اور ائمہ کا وقار برقرار رکھنا پوری ملت کی ذمہ داری ہے۔ دعا اور خیر سگالی کے کلمات کے ساتھ نشست اختتام پذیر ہوئی۔










