*مدرسہ اسلامیہ نیئ بستی پیر بٹاون میں غیر طرحی مشاعرہ منعقد*
بارہ بنکی۔ (ابوشحمہ انصاری) شہر کے محلہ پیر بٹاون نیئ بستی کے مدرسہ اسلامیہ میں قاری مقبول احمد کے زیراہتمام ایک مشاعرہ منعقد ہوا ۔
ڈاکٹر ریحان علوی کی کنوینر شپ میں ہونے والے اس مشاعرے کی صدارت شہر کی معروف شخصیت ضیاء الدین احمد نے کی۔ مہمانانِ خصوصی کے طور پر استاد الشعرا الحاج نصیر انصاری، ہاشم علی ہاشم اور جابر ایڈووکیٹ کی اہم شراکت رہی۔
محفل کا وقار بڑھانے کے لیے مہمانِ ذی وقار کی حیثیت سے مختار فاروقی اور عثمان منائی موجود رہے۔ ھزیل احمد لعل پوری کی نظامت میں ہونے والے اس مشاعرے کا آغاز قاری افضال الرحمان نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ قاری مقبول احمد صاحب کی نعت پاک کے بعد باقاعدہ بہاریہ پروگرام کا سلسلہ اختتام تک جاری رہا۔ اس سے قبل اریبہ خاتون نے صدر محترم کی شان میں مقالہ پیش کیا۔ پسند کیے جانے والے اشعار نذر قارئین ہیں۔
طوافِ در کروں یا رب ہوا میں اُڑ اُڑ کر
بنا دے کوچہِ محبوب کا غبار مُجھے
الحاج نصیر انصاری
زردار کو ہوتے ہوئے مُفلس دیکھا
دِل والوں کو بنتے ہوئے بے حس دیکھا
ہاشم علی ہاشم
محنت سے ہی حیات میں آئے گا انقلاب
لاچار بن کے وقت گزارا نہ کیجئے
جابر ایڈووکیٹ
یہ قیادتوں کے سودے ۔ یہ ضمیر کی تجارت
کوئی دام گن رہا ہے۔ کوئی دل بدل رہا ہے
مختار فاروقی
زمین اب تری پہچان مٹنے والی ہے
مکان بننے لگے ہیں مکان کے اوپر
عثمان منائی
ہمیں دیکھو تاریخ کے آئینے میں
جہاں پہنچے اپنے نشاں چھوڑ آئے
عزم گونڈوی
ہماری تشنگی کو بھی میسّر آ ہی جاتی حد
جو تُم ساحل پہ آ جاتے تو ہم تنچیم کر لیتے
ذکی طارق بارہ بنکوی
ٹھوکر کسی کے لگنے سے ذرہ جو کیا اُڑا
اترا کے وہ بھی کرنے لگا آسماں کی بات
ڈاکٹر ریحان علوی
قلب روشن نہ ہو تو سب بیکار
لاکھ سجدوں میں اپنا سر رکھیے
ھزیل لعل پوری
جن کو پانے کے لیے رستہ چنا تھا خار کا
حال بھی پوچھا نہیں اُس شخص نے بیمار کا
ارشاد بارہ بنکوی
دل خون جگر پاش تو معوف ہوئی عقل
حالت یہ بنا دی ہے محبت کی کمی نے
شہیب کوثر ردولوی
جتنا بھی اُن سے کرے کوئی سلوک احسن
قرض ماں کا تو کہاں پھِر بھی ادا ہونا ہے
عدیل منصوری
جن کے گھر بار خود نہیں محفوظ
اُن کو ضد ہے ہمیں مٹانے کی
سلیم ہمدم ردولوی
بڑھتے ۔ بڑھتے یوں بڑھا فرقہ پرستی کا جنوں
قاتلوں کو قوم کے بچوں کا سر اچھا لگا
مشتاق بزمی
خیالوں میں جہاں چاہو چلے جاؤ چلے آؤ
یہی پرواز ایسی ہے نہیں جو پر سے وابستہ
ماسٹر عرفان بارہ بنکوی
زِندگی کا کارواں ٹھہرا ہے آکر اب وہاں
زِندگی مُشکِل ہوئی مرنا ہوا آنساں مرا
نفیس احمد پوری
ساتھ میں ماں کی ہے دعا میرے
اب کوئی حادثہ نہیں ہوگا
سحر ایوبی
جو مجرم ہو کے بن بیٹھا ہے منصف
وہ مجرم کو بھلا دے گا سزا کیا
شمس زکریاوی
دشمن گلے لگاؤ تو سمجھو کہ عید ہے
مُفلس کو گھر بلاؤ تو سمجھو کہ عید ہے
عبداللطیف بارہ بنکوی
اک بندے کو ٹی۔ وی پرکہتے یہ سنا ہے
تُم شکلِ بشر میں آف خنزیر سے بڑھ کر ہو
نادان رسولوی
اِن کے علاوہ مسٹر امیٹھوی،قاری مقبول احمد اور اریبہ خاتون نے بھی اپنی۔ اپنی غزل پیش کی۔
مشاعرے کے اختتام پر مشاعرہ کنوینر ڈاکٹر ریحان علوی اور قاری مقبول احمد نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔










