سابق نیشنل ہاکی کھلاڑی ایرک لکڑا کی موت کے معاملے میں انصاف نہ ملنے پر مقامی باشندوں کا غصہ اب سڑکوں پر آ گیا ہے۔ واقعہ کو ایک ماہ سے زیادہ گزر جانے کے باوجود مرکزی ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے سے پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اسی کے خلاف سوموار کی رات متاثرہ خاندان، رشتہ داروں اور بڑی تعداد میں عام لوگوں نے چترنجن تھانہ کے سامنے ’رات جاگو‘ پروگرام کے تحت دھرنا دیا۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں مرحوم ایرک کی تصاویر تھیں اور وہ پولیس انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر رہے تھے۔
احتجاج کرنے والوں کا الزام ہے کہ پولیس صرف یقین دہانیاں دے رہی ہے، جبکہ زمینی سطح پر جانچ میں کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ واضح رہے کہ گزشتہ 8 مارچ کو ایک معمولی تنازعہ کے بعد تین نوجوانوں نے ایرک لکڑا پر جان لیوا حملہ کیا تھا۔ شدید زخمی ایرک نے علاج کے دوران 21 مارچ کو دم توڑ دیا تھا۔
اس پورے واقعے کا ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آیا ہے، جس میں حملے کی تصاویر واضح ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، اس کے باوجود پولیس اب تک اصل ملزمان تک پہنچنے میں ناکام رہی ہے۔
اگرچہ اتوار کے روز بارابنی کے ایم ایل اے بدھان اپادھیائے نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کر کے ہر ممکن مدد کا یقین دلایا تھا، لیکن اس کے باوجود عوامی غصہ کم نہیں ہوا۔ تحریک کی قیادت کر رہے اندرجیت سنگھ نے صاف کہا کہ 35 دن گزر جانے کے بعد بھی پولیس کی غیر فعالیت ناقابلِ فہم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک مرکزی ملزمان سلاخوں کے پیچھے نہیں پہنچ جاتے، یہ احتجاج جاری رہے گا۔ دیر رات تک تھانے کے باہر بڑھتی بھیڑ کو دیکھتے ہوئے علاقے میں کشیدہ خاموشی برقرار رہی اور اب سب کی نظریں پولیس کی اگلی کارروائی پر ٹکی ہوئی ہیں۔










