*ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!*
سرفرازاحمدقاسمی(حیدرآباد)
رابطہ: 8099695186
کسی بھی قوم کی پائیداری اور اسکے تحفظ کےلئے،قوم کی منصوبہ بندی اور حکمت عملی بڑی اہمیت رکھتی ہے اور دنیا کا کوئی بھی منصوبہ اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے حصول کے لیے مناسب حکمت عملی نہ اپنائی جائے،جوشخص حکمت اور مصلحت سے صرف نظر کر کے جدوجہد کرتا ہے وہ خواہ کتنا ہی نیک اور عظیم مقصد لے کر اٹھے اسے اپنی منزل تک رسائی حاصل نہیں ہوسکتی، کامیابی کے لیے لازم ہے کہ اولا منزل مقصود مقرر کی جائے پھر اس کے حصول کے لیے مؤثر تدبیر اپنائی جائے اور جذبات کی رو میں بہنے کے بجائے ہوش سے کام لیا جائے تو پھر ایسا نتیجہ برآمد ہوگا کہ خود آدمی حیران رہ جائے گا،خاص طور پر جب مقابلہ ایسے کھلے دشمن سے ہو جو اپنی شاطرانہ چالوں میں مشہور ہوں تو ایسے وقت درست اور مناسب حکمت عملی کے انتخاب کا مرحلہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے،قران کریم میں جگہ جگہ مسلمانوں کو ان چیزوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے،ایک جگہ ارشاد ہے کہ نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے،آپ نیک برتاؤ سے بدی کو ٹال دیا کیجئے،پھر یکایک آپ میں اور جس شخص میں عداوت تھی وہ ایسا ہو جائے گا جیسے کوئی دلی دوست ہوتا ہے،یہ بات انہیں لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے مستقل مزاج ہوتے ہیں اور اسی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑا صاحب نصیب ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بروقت مناسب حکمت عملی اختیار کرنے کی مثالیں کثرت کے ساتھ کتابوں میں ملتی ہیں،جوامت کے لیے تاقیامت مشعل راہ ہیں اور جن سے روشنی حاصل کر کے ملت اسلامیہ ہندیہ ہر نازک موڑ پررہنمائی حاصل کر سکتی ہے،ہندوستان کے مسلمان پورےملک میں مذہبی وسیاسی ہردو اعتبار سے اس وقت جن حالات کا سامنا کررہے ہیں اورجن طاقتوں سے وہ نبرد آزما ہیں،ایسے میں سیرت کی کتابوں اور اسلامی تاریخ میں ایسے کئی واقعات ہیں جن کے ذریعے مسلمان، مناسب حکمت عملی تیار کر سکتے ہیں اور اپنی بقا و تحفظ کی راہ ہموار کر سکتے ہیں،اسلام میں قربانی ایک اہم شعار سمجھا جاتا ہے لیکن شریعت میں حکمت اور امن کے تحفظ کو بھی اولین ترجیح دی گئی ہے،اب جبکہ ایام کو چند دن ہی باقی رہ گئے ہیں،ایسے میں خبر ہے کہ حکومت کی جانب سے پورے ملک میں بڑے جانور گائے، بھینس اور بیل کے ذبیحہ پر مکمل امتناع کے اقدامات کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ ملک گیر سطح پر بڑے جانور خواہ وہ بھینس یا بیل ہی کیوں نہ ہو اس پر مکمل امتنا کی پالیسی تیار کی جانے لگی ہے،ہندوستان کی کئی ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ پر مکمل امتناع عائد نہیں ہے بلکہ مشروط اجازت حاصل ہے،اس کے باوجود کئی ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ کو ریاستی قوانین کے ذریعے ممنوع قرار دیا گیا ہے،اب مرکزی حکومت کی جانب سے جو منصوبہ بندی کی جارہی ہے اس کے مطابق ملک بھرمیں قومی سطح پر گائے،بھینس،بیل کے علاوہ گائے کی نسل کے تمام جانوروں کے ذبیحہ پر امتناع عائد کرنے کے سلسلے میں قانون سازی کے عمل کا جائزہ لیا جارہا ہے،ماہرین کے مطابق اگر مرکزی حکومت بڑے جانور کے ذبیحہ پر مکمل امتناع عائد کرتی ہے تو ایسی صورت میں سنگین معاشی بحران پیدا ہونے کا امکان ہے کیونکہ ناکارہ جانور بالخصوص وہ جانور جو دودھ نہیں دیتے اور کھیت میں کام کرنے کے قابل نہیں رہتے ان مویشیوں کو بھی کسانوں کو پالنا پڑے گا جو کہ کسانوں پر معاشی بوجھ کے مترادف ہوگا،ان مویشیوں کے لیے چارہ اور ادویات کا انتظام بھی کرنا پڑے گا جو انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوگا،اس کے علاوہ اگر بڑے جانور کی قربانی اور ذبیحہ پر مکمل امتناع عائد کیا جاتا ہے تو اس صورت میں بے روزگاری کی شرح میں بھی زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا کیونکہ گوشت برآمد کرنے والی صنعت سے لاکھوں نوجوان وابستہ ہیں اور ہندوستان دنیا بھر میں دوسرا سب سے بڑا ملک ہے جو گوشت برآمد کرتا ہے،اس کے علاوہ چمڑے کی صنعت سے بھی لاکھوں افراد وابستہ ہیں جو چمڑے کی برآمدات کے ذریعے ملک کی معیشت کو مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں،ماہرین معاشیات کے مطابق اگر ہندوستان میں بڑے جانور کے ذبیحہ پر مکمل امتناع عائد کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اس کے منفی اثرات سے ہندوستانی معیشت کو بچایا نہیں جاسکتا۔ علاوہ ازیں کسانوں کو اپنی زراعت کو محفوظ رکھنے میں بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ جب جانوروں کو ذبح نہیں کیا جائے گا تو آوارہ مویشیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلاجائے گا وہ مویشی کسانوں کی زرعی پیداوار کو اپنی غذا بنانے لگ جائیں گے جو کھیتوں کی تباہی کا سبب بنے گا اور اگر ہندوستان سے گوشت کی برآمدات مکمل طور پر بندہوجاتی ہے تو اس صورت میں ہندوستان کو برآمدات سے ہونے والی آمدنی پر منفی اثر بھی پڑے گا۔
حیدراباد سمیت پورے ملک کے مسلمانوں اور رہنمایان قوم و ملت کے ساتھ سنجیدہ فکر رکھنے والے دانشوروں کے لیے یہ وقت جذباتی سیاست کا بالکل نہیں ہے،بلکہ معاشی حکمت عملی اپنانے کا ہے،یہ وقت انتہائی سنجیدگی سے حالات کو سمجھنے اور غوروفکر کرنے کا ہے کہ کس طرح پرامن اور خاموش اقدام کے ذریعے قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کو ان کے اپنے ہی معاشرے کے سامنے بے بس اور بے نقاب کیا جائے،عید الاضحی کے موقع پر ملک بھر میں بالخصوص تلنگانہ اور حیدرآباد کے مضافاتی علاقوں میں نام نہاد گؤ رکشکوں کی بڑھتی ہوئی غنڈاگردی،ہنگامہ آرائی اور قانون ہاتھ میں لینے کے مختلف واقعات نے مسلم برادری اور مسلمانوں کو ایک نئے موڑ پر لاکڑا کیا ہے،اس کشیدہ صورتحال کے لیے حیدرآباد کے مختلف حلقوں کی جانب سے ایک ہی آواز ابھررہی ہے کہ اب ہمیں جذباتی ہونے کے بجائے گہرائی سے سوچنا چاہیے،’اس سوچنا چاہیے’ مہم کے پیچھے ایک ایسی منفرد معاشی حکمت عملی چھپی ہے جس کا براہ راست اورعملی نمونہ اس وقت مغربی بنگال کی منڈیوں میں صاف دکھائی دے رہا ہے،حیدرآباد اور اس کے مضافاتی اضلاع میں بڑے جانوروں سے لدی گاڑیوں کو روکنا تاجروں کو ہراساں کرنا اسکے علاوہ پولیس کی مبینہ جانبداری اب ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، شرپسند عناصر کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو مشتعل کرنا اورشہر کا امن و امان خراب کرنا ہے،اب وقت آگیا ہے کہ مسلمانوں کو روایتی رد عمل دینے کے بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ کیا شر پسندوں کے بچھائے ہوئے اشتعال انگیزی کے جال میں پھنسنا کوئی دانشمندی ہے؟ کیا ہم اپنی خریداری کی طاقت کو ایک خاموش اور مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں؟اس سوچ کے تحت علمائے کرام اورسنجیدہ حلقے اس بات پر غور کریں،موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اب بڑے جانوروں کی خریداری سے کم از کم ایک دو سال گریز کیا جائے تو شرپسندوں اور تخریب کاروں کا پورا ایجنڈا ہی فیل ہوجائے گا،مغربی بنگال میں تشکیل پانے والی بی جے پی کی نئی حکومت نے بڑے جانوروں کی قربانی کے خلاف نئے نئے قوانین نافذ کردیے ہیں جس کے بعد اب مغربی بنگال کے مسلمانوں نے خاموش حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے قربانی کے لیے بڑے جانوروں کی خریداری میں شدید عدم دلچسپی کا اظہار کیا ہے،خبر کے مطابق بنگال کی منڈیوں کا نقشہ ان دنوں بدل گیا ہے،مغربی بنگال میں مویشی پالنے اور انہیں عیدالاضحی کے موقع پر فروخت کرنے کا کاروبار بڑے پیمانے پر برادران وطن ہی کرتے ہیں،بڑے جانوروں کی خریداری سے مسلمانوں کے پیچھے ہٹتے ہی کروڑوں روپے مالیت کے جانور منڈیوں میں کھڑے رہے انہیں خریدنے والا کوئی مسلمان خریدار دستیاب نہیں ہورہاہے،جس سے ہندو بھائیوں کے مویشی پالنے والوں کا سال بھر کا سرمایہ ڈوبنے لگا ہے،اسکا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اب مویشی پالنے والے ہندو برادری کے لوگ خود ہی اپنی حکومت اور شرپسندوں کے خلاف سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کررہے ہیں،ملک بھر کے مسلمانوں،علمائے دین اور دانشوران قوم وملت کو مغربی بنگال کے اس منظر نامے سے سبق لیتے ہوئے سنجیدگی سے غوروفکرکرنا چاہیے،جب تک مسلمان بڑے جانور خریدتے رہیں گے یہ شرپسند مذہبی محافظ بن کر غنڈا گردی کرتے رہیں گے لیکن جیسے ہی مسلمان مارکیٹ سے پیچھے ہٹ جائیں گے،تب یہ لڑائی مذہبی نہیں رہے گی بلکہ خود ان کے اپنے لوگوں کی بھی معاشی لڑائی بن جائے گی،جانور پالنے والا ہندو طبقہ خود ان گؤ رکشکوں کے خلاف کھڑا ہو جائے گا جو ان کا روزگار تباہ وبربادکررہے ہیں۔
سیرت کی کتابوں سے ہم یہاں چند واقعات نقل کررہے ہیں تاکہ مناسب حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔حدیث کی کتابوں میں ایک معروف واقعہ حلف الفضول کے نام سے ہے،جو دراصل مختلف قبائلوں کے درمیان ایک معاہدہ تھا،اسکی شرط یہ تھی کہ جب بھی مکہ میں کسی مظلوم پرظلم ہوگا یا کسی کمزور کی حق تلفی کی جائے گی تو ہم سب مل کرمظلوم کا ساتھ دیں گے اورحقدار کو حق دلانے کے لیے ہرقربانی پیش کریں گے،یہ معاہدہ مکہ کے مشہور سردار عبداللہ ابن جدان کے گھر میں ہوا تھا جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی بنفس نفیس شریک تھے،نبوت ملنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس معاہدے کا اکثرتذکرہ کرتے اور فرماتے کہ میں عبداللہ ابن جدعان کے گھر میں معاہدہ حلف الفضول میں شریک تھا، اگر مجھے اسلام کی حالت میں اسکی طرف بلایا جائے تو میں اس کو قبول کروں گا،ان لوگوں نے عہد کیا تھا کہ حقوق حقدار کو لوٹائے جائیں گے اور کسی ظالم کو مظلوم پر ترجیح نہیں دی جائے گی،اس میں چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف طور پرفرما دیا کہ اسلام کسی ایسے منصفانہ معاہدہ جات کے خلاف نہیں ہے بلکہ ان کا مؤید ہے،اس سے یہ ثابت ہوا کہ جہاں ضرورت ہو وہاں مسلمانوں کو اس طرح کے معاہدے میں شامل ہونے میں شرعا کوئی قباحت نہیں ہے،لہذا ایسے معاہدے کے وجود کے لیے عوام و خواص کی ذہن سازی کرنی چاہیے،یہ ایک بہترین حکمت عملی ہے۔
ایک اور واقعہ صلح حدیبیہ کے نام سے بھی مذکور ہے جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر مکہ کے ان مشرکین سے صلح فرمائی جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھیوں سمیت عمرہ کرنے سے روک دیا تھا،اس صلح نامہ میں جو دفعات تھی وہ بظاہر مسلمانوں کی کمزوری ظاہر ہونے والی تھی مثلا یہ کہ جو کافر مسلمان ہو کر مکہ سے مدینہ آنا چاہے گا اسے مدینے میں پناہ نہیں دی جائے گی،اس کے برخلاف جو مسلمان کافر ہو کر مدینہ سے مکہ آجائے گا اسے مکہ سے واپس نہیں کیا جائے گا وغیرہ ادھر صحابہ میں ایسا جوش تھا کہ وہ بآسانی ان دفعات کو ماننے کے لیے ہرگزآمادہ نہ تھے بلکہ جنگ کرنے اورمرنے کےلئے تیار تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحکم خداوندی اس صلح کو منظورفرمایا اور صحابہ کرام کے ظاہری جذبات کی بالکل پرواہ نہیں فرمائی نتیجہ یہ ہوا کہ بعد میں یہی صلح،فتح مکہ کا سبب بن گئی اور قرآن کریم میں اس صلح کو فتح مبین سے تعبیر فرمایا گیا۔
ایک اور واقعہ ہجرت کے بعد پہلا علاقائی معاہدہ ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ ہجرت فرمانے کے بعد نہایت دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اولا یہ عمل کیا کہ انصار مدینہ اور مہاجرین میں دینی اخوت کا رشتہ قائم فرمایا جس سے دونوں طبقوں میں ایسا مثالی امتزاج سامنے آیا کہ تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہے،پھر ساتھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلم اور یہودی قبائل کو ملا کر ایک معاہدہ نامہ منظور کرایا جس میں مظلوم کا ساتھ دینے اور خارجی دشمن کا مل جل کر مقابلہ کرنے وغیرہ جیسی دفعات شامل تھیں،اس معاہدے کی وجہ سے یہودیوں کی شرارتوں پر بعد میں باز پرس کرنے اور ان کی طاقت کو زیر کرنے میں سب سے زیادہ مدد ملی اگر یہ معاہدہ نہ ہوتا تو یہودی تمام تر سازشیں رچاتے رہتے اور کسی کو ان سے ٹکر لینے کا حوصلہ نہ ہوتا،پیغمبر علیہ السلام کی اس حکمت عملی نے ان کے منصوبوں کو خاک میں ملادیا۔
اسی طرح فتح مکہ کے بعد جب حنین کی لڑائی میں مسلمانوں کو عظیم الشان مال غنیمت ملا تو پیغمبر علیہ السلام نے دل کھول کر یہ مال تالیف قلب کے لیے مکہ کے ان قبائلی سرداروں پر خرچ فرمایا جن کا ایمان ابھی تک پختہ نہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر خرچ کر کے اپنا احسان رکھا اور یہی احسان ان کے لیے دین میں پختگی کا ذریعہ بن گیا،یہ بھی ایک مناسب حکمت عملی تھی جس کے اثرات فوری طور پر ظاہر ہوگئے اور یہ خطرہ جاتا رہا کہ کہیں یہ نو آموز مسلمان بعد میں اپنے دین سے پلٹ نہ جائیں اور دینی اقتدار کو نقصان نہ پہنچ جائے۔
مکہ مکرمہ جب فتح ہوا تو مکہ والوں نے پیغمبر علیہ السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو جو اذیتیں پہنچائی تھیں،ان کا بھرپور اور عبرت ناک بدلہ لینے کا یہ اچھا موقع تھا اس لیے بعض پرجوش صحابہ کی زبان سے یہ جملہ بھی نکل گیا تھا کہ آج تو گوشت کاٹنے کا دن ہے لیکن پیغمبر علیہ السلام نے اس دن انتقام کی حکمت عملی نہیں اپنائی بلکہ عفو و درگزر کی پالیسی اختیار کی اور اعلان فرمایا کہ آج کعبہ کو عزت کا لباس پہنایا جائے گا،پھر اعلانات کیے کہ جو فلاں کے گھر میں آجائے وہ امن میں ہے وغیرہ وغیرہ
آپ کے اس طرز عمل کا اثر یہ ہوا کہ مکہ کے بڑے بڑے وہ سردار جن کی پوری زندگی اسلام دشمنی میں گزری تھی ان کے دل موم ہو گئے اور انہوں نے اسلام قبول کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابدی غلامی کو برضا و رغبت قبول کرلیا۔
بعثت مبارکہ کے بعد ابتدائی دور میں دو لوگ اسلام کے سخت دشمن تھے جن کا دبدبہ پورے علاقے پر قائم تھا،ایک ابوجہل عمرو ابن ہشام اور دوسرے سیدنا عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ان کے متعلق بارگاہ رب العالمین میں یہ دعا فرمائی کہ اللہ ان دونوں میں جو آپ کو زیادہ پسند ہو اس کو اسلام کی دولت سے عطاکرکے اپنے دین کی عزت کا سامان فراہم فرما دیں،پیر کے دن ظہر کی نماز کے بعد آپ نے یہ دعا کرنی شروع کی تھی اورہرروز اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے رہے،تیسرے دن یعنی چہارشنبہ کے روز ظہر کے بعد سیدنا عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کے حق میں یہ دعا قبول ہو گئی اور آپ حیرت انگیز طور پر اسلام کے دامن میں پناہ لینے آگئے۔
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعثت کے بعد خاندان کے 40 اہم افراد کو اپنے دولت خانے پر دعوت کے لیے بلایا اور بابرکت کھانا کھلانے کے بعد ان کو اسلام کی دعوت پیش کی، اس دعوت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کٹر مخالف ابولہب بھی شریک تھا،اس طرز عمل سے معلوم ہوا کہ غیروں کو اپنے قریب کرنے کے لیے دعوت وغیرہ بھی ایک مؤثر حکمت عملی میں داخل ہے۔
*(مضمون نگار معروف صحافی،کالم نگار اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com










