آسنسول : خسرہ اور روبیلا نامی وائیرس کے خلاف ٹیکہ کاری مہم کی شروعات ریاست بھر کے تمام اسکولوں میں کردی گئی ھے۔اس کے لیے کیمپ لگائے جارہے ہیں۔کئی اسکولوں کے صدر مدرس نے بتایا کہ جنوری سے 15 سال تک کے اسکولی بچوں کو مذکورہ دونوں ٹیکے لگائے جائیں گے۔اسکولوں کے نمایندہ اساتذہ پہلے سے ہی محکمہ صحت کے افسران سے رابطہ کر چکے ہیں۔ٹیکہ کاری سے متعلق بیداری مہم چلانے کے لیے اساتذہ جلد ہی گارجین کے ساتھ میٹنگ کریں گے۔یہ دونوں ٹیکے پوری ریاست میں 9 ماہ سے 15سال تک کے بچوں کو مفت ٹیکہ مہیا کرائے جائیں گے۔درجہ اول سےدہم تک کے سبھی سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں کے طلباء وطالبات کو اسکول سے ہی دیے جائیں گے۔اسکول کے مدرس اعلی کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں ٹیکہ لگانے سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ کوئی بھی بچہ یا بچی اس ٹیکہ سے محروم نہیں ہوسکیں گے۔ہر ایک اسکولوں میں درجہ اول سے دہم تک کے طلبہ کی تعداد کی فہرست محکمہ صحت یا کارپوریشن کو بھیجنے کے لیے کہا گیا ہے۔اساتذہ نے کہا کہ کورونا بحران کے دوران کسی ایک طلبا کو نہیں چھوڑا گیا۔کیونکہ طلبہ اسکول میں ویکسین لینے کے لیے سرگرم تھے۔اسی طرح یہ دونوں ٹیکے اسکول میں دیے جاتے ہیں تو 15 سال تک کے کوئی بھی اسٹوڈنٹس نہیں چھوٹیں گے۔محکمہ صحت کے افسران نے سب سے پہلے اسکول کے نماءندہ وفد سے ملاقات کی۔ کولکاتا علاقہ کے اسکولوں کے سلسلے سے متعلقہ بورو کے شعبہ صحت کے افسران نے بھی ایک میٹنگ کی۔بنگور میں ناراءن داس انگور میموریل ملٹی پرپز اسکول کے صدر مدرس سنجے بروا نے کہا کہ کچھ دنوں میں گارجینوں کو بلایا جاءے گا انہیں ٹیکہ سے متعلق جانکاری دی جائے گی۔ایک انگریزی میڈیم اسکول کے صدر مدرس نے کہا کہ کارپوریشن کے شعبہ صحت کی ایک میٹنگ میں تمام سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں کے نمایندہ اساتذہ موجود رہے۔میٹنگ میں اس بات کی بھی جانکاری دی گئی کہ جو طلبا یہ دونوں ٹیکہ لگا رکھے ہیں وہ بھی دوبارہ ٹیکہ لگوا سکتے ہیں۔ٹیکہ لگانا کس قدر اہم اور ضروری ہے یہ بھی میٹنگ مینسلایڈ شو کے ذریعہ دیکھایا گیا۔یہی بات گارجینوں کو سمجھانی ہے۔










