Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*خالق سے خالق کو کیسے مانگا جائے؟*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*خالق سے خالق کو کیسے مانگا جائے؟*

تحریر۔ابوشحمہ انصاری
سعادت گنج،بارہ بنکی

آج کا انسان عجیب بے چینی کے عہد میں زندہ ہے۔ بظاہر ترقی اپنے عروج پر ہے، شہروں میں روشنیوں کا سیلاب ہے، ہاتھوں میں جدید موبائل ہیں، زندگی سہولتوں سے بھری پڑی ہے، مگر اس سب کے باوجود دلوں میں ایک عجیب خلا پیدا ہو چکا ہے۔ لوگ ہنس رہے ہیں مگر سکون میں نہیں، تعلقات قائم ہیں مگر اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے، عبادتیں موجود ہیں مگر روحانیت کہیں کھو گئی ہے۔ ہر شخص کچھ نہ کچھ حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہے۔ کوئی دولت چاہتا ہے، کوئی شہرت، کوئی طاقت، کوئی محبت اور کوئی آسائش۔ مگر اس پوری بھاگ دوڑ میں ایک سوال مسلسل انسان کی روح کو پکارتا ہے کہ کیا کبھی انسان نے اپنے خالق سے صرف خالق کو مانگا ہے؟
یہ سوال محض مذہبی نہیں بلکہ انسان کی پوری روحانی زندگی کا مرکز ہے۔ آج انسان خدا سے اپنی ضرورتیں تو مانگتا ہے مگر خدا کو نہیں مانگتا۔ دعا میں خواہشیں ہوتی ہیں مگر تعلق کی سچائی کم ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ سجدے میں جا کر دنیا مانگتے ہیں، کامیابی مانگتے ہیں، رزق مانگتے ہیں، مگر کتنے لوگ ہیں جو خاموش راتوں میں ٹوٹ کر یہ کہتے ہوں کہ اے اللہ! مجھے صرف تُو چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عبادت رسم سے نکل کر عشق میں بدلتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان کے پاس دنیا کم ہے بلکہ یہ ہے کہ اس کے دل میں خدا کی محبت کم ہوتی جا رہی ہے۔ انسان نے مادیت کو زندگی کا مقصد بنا لیا ہے۔ دولت کو کامیابی کا معیار اور شہرت کو عزت کا پیمانہ سمجھ لیا گیا ہے۔ اسی لیے آج ہر شخص ظاہری طور پر مطمئن نظر آنے کے باوجود اندر سے خوف، تنہائی اور بے سکونی کا شکار ہے۔ انسان جتنا دنیا کے قریب ہو رہا ہے اتنا ہی اپنے رب سے دور ہوتا جا رہا ہے، اور یہی دوری روح کی سب سے بڑی ویرانی بن چکی ہے۔
آج کی نسل خاص طور پر ایک خطرناک روحانی خلا میں مبتلا ہے۔ سوشل میڈیا کے شور میں زندگی گزارنے والا نوجوان بظاہر بہت مصروف دکھائی دیتا ہے مگر اندر سے ٹوٹا ہوا ہے۔ اس کے پاس اظہار کے بے شمار ذرائع ہیں مگر سکون کا ایک لمحہ نہیں۔ وہ لوگوں کی توجہ تو چاہتا ہے مگر اپنے رب کی قربت سے غافل ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی میں آسائشیں بڑھنے کے باوجود بے چینی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ کیونکہ انسان کے دل کا خلا دنیا کی کسی چیز سے نہیں بلکہ صرف خدا کی محبت سے بھر سکتا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ ہم نے عبادت کو بھی ظاہری عمل بنا دیا ہے۔ نمازیں پڑھی جا رہی ہیں مگر دل حاضر نہیں، دعائیں مانگی جا رہی ہیں مگر یقین کمزور ہے، زبان پر خدا کا نام ہے مگر زندگی میں اس کی جھلک کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم نے خدا کو اپنی ضرورتوں کا ذریعہ تو بنایا مگر اپنی زندگی کا مرکز نہیں بنایا۔ حالانکہ محبت کا اصول بہت واضح ہے۔ انسان جس سے سچی محبت کرتا ہے وہ صرف اس کی دی ہوئی چیزوں کا طلبگار نہیں رہتا بلکہ اس کی قربت چاہتا ہے۔ اگر بندہ واقعی اپنے رب سے محبت کرے تو پھر وہ صرف نعمتیں نہیں بلکہ خود منعم کو مانگتا ہے۔
خالق کو مانگنے کا مطلب دنیا چھوڑ دینا نہیں بلکہ دنیا کو دل سے نکال دینا ہے۔ اسلام انسان کو زندگی سے بھاگنے کا درس نہیں دیتا بلکہ دنیا میں رہ کر خدا سے جڑے رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ انسان کاروبار بھی کرے، ترقی بھی کرے، خواب بھی دیکھے، مگر دل کا سہارا صرف اپنے رب کو بنائے۔ کیونکہ جب انسان خدا سے جڑ جاتا ہے تو پھر حالات اسے آسانی سے توڑ نہیں پاتے۔ مشکلات آتی ہیں مگر امید باقی رہتی ہے، آزمائشیں آتی ہیں مگر دل بکھرتا نہیں، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا رب اس کے ساتھ ہے۔
تاریخ میں جتنے عظیم لوگ گزرے، ان کی اصل طاقت دنیا نہیں بلکہ خدا سے تعلق تھا۔ حضرت بلالؓ کو ظلم کی تپتی ریت بھی ان کے یقین سے ہٹا نہ سکی۔ حضرت امام حسینؓ نے کربلا میں حق کا پرچم اس لیے بلند رکھا کیونکہ ان کا سہارا صرف خدا تھا۔ رابعہ بصریؒ جیسی عظیم ہستیوں نے عبادت کو خوف یا لالچ نہیں بلکہ محبت بنایا۔ یہی وہ روحانی طاقت تھی جس نے انہیں دنیا کے خوف سے آزاد کر دیا۔
آج انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ وہ دوبارہ اپنے رب کی طرف لوٹے۔ اپنے دل کو حسد، غرور، نفرت اور دکھاوے سے پاک کرے۔ اپنی عبادتوں میں سچائی پیدا کرے۔ خدا سے تعلق کو رسم نہیں بلکہ اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ کیونکہ جب دل خدا سے خالی ہو جائے تو پھر دنیا کی ہر آسائش بھی انسان کو سکون نہیں دے سکتی۔ انسان باہر سے کامیاب نظر آتا ہے مگر اندر سے ٹوٹا رہتا ہے۔
یہ دنیا ہمیشہ عارضی رہی ہے۔ یہاں دولت بھی ختم ہو جاتی ہے، شہرت بھی ماند پڑ جاتی ہے، طاقت بھی چھن جاتی ہے اور لوگ بھی بدل جاتے ہیں۔ مگر ایک ذات ایسی ہے جو کبھی نہیں بدلتی۔ جو انسان کے ہر دکھ کو جانتی ہے، ہر آنسو کو دیکھتی ہے اور ہر خاموش دعا کو سنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سچے لوگ دنیا سے کم اور خدا سے زیادہ امید رکھتے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اصل سکون خالق کی قربت میں ہے، نہ کہ دنیا کی چمک میں۔
آج اگر انسان واقعی اپنے اندر سکون، محبت اور اطمینان پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسے خدا سے صرف دنیا نہیں بلکہ خدا کو مانگنا ہوگا۔ کیونکہ جب بندہ اپنے رب کو پا لیتا ہے تو پھر دنیا کی محرومیاں بھی اسے فقیر نہیں بنا سکتیں۔ اور شاید یہی انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ وہ ایک دن دنیا کے تمام شور، تمام خواہشوں اور تمام تھکنوں کے بعد اپنے رب کے سامنے جھک کر یہ کہہ دے کہ اے میرے پروردگار! مجھے دنیا کی کسی چیز سے پہلے صرف تُو چاہیے۔
مضمونگار،آل انڈیا ماٸنا ریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبہ نشرواشاعت کے سیکرٹری ہیں۔