Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*انبساط ثانیہ کمال نے کر دکھایا کمال آسنسول کی بیٹی راجستھان یونیورسٹی ٹاپر ، گولڈ میڈل سے سرفراز*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*انبساط ثانیہ کمال نے کر دکھایا کمال                                                           

 آسنسول کی بیٹی راجستھان یونیورسٹی ٹاپر ، گولڈ میڈل سے سرفراز*

   خصوصی رپورٹ :
*امتیاز احمدانصاری*

      “محنت اتنی خاموشی کے ساتھ کروکہ کامیابی شور مچانے لگے”۔ اس بات کو تالپوکھریا آشرم موڑ ، آسنسول کی رہنے والی فخر ملت اور فخر آسنسول انبساط ثانیہ کمال نے ایک مرتبہ پھر سے سچ ثابت کردکھایا۔ آسنسول کی اس ہونہار بیٹی نے جودھپور راجستھان کےسردار پٹیل یونیورسٹی آف پولس سیکورٹی اینڈ کریمنل جسٹس سے بی اے سیکوریٹی منیجمنٹ کے فائنل امتحان میں 89.5 فیصد مارکس لاکر یونیورسٹی ٹاپر ہونے کا شرف حاصل کیا اور آسنسول کی تعلیمی میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔گزشتہ کل یونیورسٹی کے چوتھے کانوکیشن کی پروقار تقریب کے دوران  راجستھان کے گورنر شری ہری بھاؤ باگاڑے نے اپنے ہاتھوں سے انبساط کو گولڈ میڈل اور سرٹیفکیٹ سے نوازہ۔موقعے پر مذکورہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور راجستھان کے سابق ڈی جی پی ڈاکٹرالوک ترپاٹھی( آئی پی ایس) اور راجستھان ودھان سبھا کے صدر شری باسو دیو دیبنانی خصوصی طور پر موجود رہے۔واضح ہوکہ انبساط ثانیہ کمال شہر آسنسول کی معروف  سماجی شخصیت ، عالم نگر اردو ایف پی اسکول کے مدرس اور اپنے وقت کے  ذہین طالب علم ماسٹر محمد کمال اور فیروزہ نغمہ(خاتون خانہ) کی دختر نیک اختر ہیں۔ انبساط نے ابتدائی تعلیم آسنسول کیندریہ ودیالیہ سے حاصل کرنے کے بعدعام بچوں اور عام روش  سے بالکل ہٹ کر ایک منفرد کورس کی حصولیابی کے لئے راجستھان کے سردار پٹیل پولس یونیورسٹی میں بی اے سیکوریٹی منیجمنٹ میں داخلہ لیا۔خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں اس بچی کے والدین جنہوں نے اپنی آنکھوں  میں حسین سپنے سجائے بڑی ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئےملک کی موجودہ صورتحال کی پرواہ کئے بغیر اپنے گوشہ جگر کو شہر اور ریاست سے کافی دور اس انفرادی  کورس حاصل کرنے کے لئے بھیجا اور اس بچی نے بھی اپنے والدین کے سپنوں کو سچ کر دکھانے اور ان کی امیدوں پر پورا اترنے کی جدو جہد میں جٹ گئیں اور بالآخر بہترین نمبروں سے کامیابی حاصل کرکے نہ صرف اپنے والدین، اساتذہ اور شہر بلکہ اپنی ریاست کا نام اونچا کیا۔انبساط کی خواہش اور مستقبل کاارادہ  کریمنولوجی اینڈ پولس  ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرس  کرکے ملک وقوم کی خدمت کرنے کا ہے۔انبساط ثانیہ کمال کی اس بڑی کامیابی کی خبر عام ہوتے ہی عزیز واقارب اور احباب کی جانب سے مبارکباد دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر بھی انبساط کی اس تاریخی کامیابی کے چرچے عام ہیں۔ مبارکباد پیش کرنے والوں میں مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے ارکان میں شامل شکیل انور و کہکشاں ریاض خوشی،انجمن ترقی اردو ہند کے ضلعی  صدر الحاج عبدالجلیل،سکریٹری ماسٹر محمد سلیمان ،انبساط کے چچا اور حاجی قدم رسول ہائی اسکول کے مدرس محمدعمران، عالم نگر اردو ایف پی اسکول کے صدر مدرس محمد زین العابدین ودیگر کے نام قابل ذکر ہیں ۔