Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*”بزمِ ایوانِ غزل” کے زیرِ اہتمام عظیم الشان ماہانہ طرحی مشاعرہ منعقد*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*“بزمِ ایوانِ غزل” کے زیرِ اہتمام عظیم الشان ماہانہ طرحی مشاعرہ منعقد*

بارہ بنکی،(پریس ریلیز/ابوشحمہ انصاری) سعادت گنج کی بہت ہی فعال ادبی تنظیم  “بزمِ ایوانِ غزل”  کے زیرِ اہتمام آئیڈیل انٹر کالج محمد پور باہوں کے وسیع ہال میں ایک عظیم الشان ماہانہ طرحی مشاعرے کا انعقاد عمل میں آیا جس کی صدارت قیوم بہٹوی نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اسلم سیدنپوری اور مہمانِ اعزازی کے طور پر دانش رامپوری شریک ہوئے، طنز و مزاح کے البیلے شاعر بیڈھب بارہ بنکوی کی نظامت میں ہونے والے اس بہت ہی حسین مشاعرے کا آغاز دانش رامپوری نے نعتِ رسولﷺ سے کیا اور ساری فضا کو روحانی بنا دیا اس کے بعد دئے گئے مصرع طرح
“سفر کو بانٹ لیتے ہم تھکن تقسیم کر لیتے”
پر باقاعدہ طور پر مشاعرے کا آغاز ہوا مشاعرہ بہت ہی کامیاب رہا بہت زیادہ داد و تحسین پانے والے اشعار کا انتخاب نذرِ قارئین ہے ملاحظہ فرمائیں۔
ہمیں بھی وہ جکڑ دیتا غلامی کی سلاسل میں
جو شرطیں اس کی “بیڈھب” ہم کہیں تسلیم کر لیتے
بیڈھب بارہ بنکوی
کسی امکان کا در وا تو رہتا دل کے گوشے میں
جو منفی سوچ کی رفتار ہم کچھ دھیم کر لیتے
ذکی طارق بارہ بنکوی
وقار اتنا نہیں گرتا زمانے بھر میں پھر اپنا
اگر مضبوط ہم اپنی کوئی تنظیم کر لیتے
اسلم سیدنپوری
ہمارے اور ان کے بیچ میں جھگڑا نہیں ہوتا
اگر ہم اپنا لہجہ تھوڑا سا ترمیم کرلیتے
دانش رامپوری
جو جلوہ ریز ہوتے آپ دل کی انجمن میں تو
خود اپنی ذات کو ہم نور میں ترمیم کر لیتے
مشتاق بزمی
لڑاٸی بھائیوں میں روز پھر گھر کی نہیں ہوتی
اگر ماں باپ کے رہتے یہ گھر تقسیم کر لیتے
راشد رفیق
جو دنیا چھوڑ کر ہم کربلا تسلیم کر لیتے
یہ دل وابستہء تحریکِ ابراہیم کر لیتے
نازش بارہ بنکوی
ہنر اظہارِ الفت کا جو ہم کو آگیا ہوتا
زمانے بھر کے غم سہہ کر تری تعظیم کرلیتے
عبید عزمی
اگر تم ہمسفر اپنا ہمیں تسلیم کر لیتے
سفر کو بانٹ لیتے ہم تھکن تقسیم کر لیتے
سحر ایوبی
اگر چہ ماں کی خدمت باپ کی تعظیم کر لیتے
تو ہم بھی نوش جامِ کوثر و تسنیم کر لیتے
نعیم سکندر پوری
ہماری بات کو دل سے اگر تسلیم کر لیتے
سفر کو بانٹ لیتے ہم تھکن تقسیم کر لیتے
قمر سکندر پوری
تمہارا سر ندامت سے کبھی جھکتا نہیں “عاصم”
اگر تم شعر میں اپنے ذرا ترمیم کر لیتے
عاصم اقدس
جہانِ رنگ و بو میں خود کو کھونا بھی نہ لازم تھا
اگر ہم ربطِ نسبت کو ذرا تنظیم کر لیتے
ابوذر انصاری
ان شعراء کے علاوہ قیوم بہٹوی، مصباح رحمانی اور اظہار حیات نے بھی اپنا اپنا طرحی کلام پیش کیا اور شعراء و سامعین سے خوب داد و تحسین حاصل کی سامعین میں ماسٹر محمد وسیم انصاری، ماسٹر محمد قسیم انصاری، ماسٹر محمد حلیم انصاری، ماسٹر محمد راشد انصاری کے نام بھی قابلِ ذکر ہیں، “بزمِ ایوانِ غزل” کا آئندہ ماہ کا ماہانہ طرحی مشاعرہ 31/ مئی بروز اتوار مندرجہ ذیل مصرع طرح پر آئیڈیل انٹر کالج میں ہی ہوگا۔
“کیفِ جاں اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے”
قافیہ: اترنے
ردیف: میں دیر کتنی لگتی ہے
اس اعلان کے ساتھ ہی بزم کے صدر ذکی طارق بارہ بنکوی نے مشاعرے میں دور دراز اور اطراف و جوانب سے آکر شرکت کرنے والے سبھی شعراء اور سامعین کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مشاعرے کا آئندہ ماہ تک کے لئے اختتام کا اعلان کیا ۔

Latest News

Related News