*روشن اسکرینیں، تاریک ضمیر: ڈیجیٹل دور کا اخلاقی زوال*
*(کیا ٹیکنالوجی نے ہمیں بے حس بنا دیا؟)*
از قلم :
*ماریہ ثمر محمد نسیم* ، امراوتی، مہاراشٹر
اکیسویں صدی کی پیشانی پر اگر کوئی سب سے روشن اور جلی لفظ تحریر ہے تو وہ بلا شبہ ڈیجیٹل انقلاب ہے۔ اس حیرت انگیز تکنیکی ارتقا نے جغرافیائی سرحدوں کو پامال کرتے ہوئے فاصلوں کو سمیٹ دیا، علوم کے سمندر کو ایک ننھی سی اسکرین میں بند کر دیا اور انسانی تاریخ کی سب سے بڑی عالمگیر بستی (گلوبل ولیج) کی بنیاد رکھی۔ انسان نے ستاروں پر کمندیں ڈالیں، معلومات کو انگلیوں کی جنبش پر لا کھڑا کیا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے امکانات کی نئی دنیا تخلیق کی۔ لیکن اس شاندار تمدنی پیش رفت اور بے مثال معاشی و سائنسی ترقی کے ہنگاموں میں ایک ایسی انمول دولت خاموشی سے انسانی معاشرے سے رخصت ہو رہی ہے جس کے بغیر کوئی بھی تہذیب نہ تو مہذب کہلا سکتی ہے اور نہ ہی اس کی بقا کی ضمانت دی جا سکتی ہے، اور وہ عظیم دولت اخلاق، اعلیٰ کردار، رحم دلی اور باہمی احترام کی انسانی قدریں ہیں۔
آج کا انسان جدید ترین ڈیجیٹل آلات کا مالک تو بن چکا ہے مگر اپنے وجود کے اخلاقی مرکز سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاتھوں میں جدید ترین اسمارٹ فونز موجود ہیں لیکن ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر دلاسہ دینے کا جذبہ کمزور پڑ چکا ہے۔ ہزاروں آن لائن دوستوں کے ہجوم میں سچی رفاقتیں نایاب ہیں اور معلومات کی فراوانی نے ذہنوں کو تو بھر دیا ہے مگر دلوں میں محبت، برداشت، ایثار اور دردمندی کی روشنی مدھم کر دی ہے۔
ٹیکنالوجی بذاتِ خود کوئی برائی نہیں بلکہ یہ محض ایک غیر جانبدار ذریعہ ہے؛ اصل مسئلہ انسان کا اس کے ساتھ پیدا ہونے والا غیر ذمہ دارانہ اور غیر اخلاقی تعلق ہے۔ جب ترقی اخلاقی اقدار اور انسانی حِس سے محروم ہو جائے تو وہی نعمت انسان کے لیے ایک سنگین امتحان اور زحمت بن جاتی ہے۔
عالمی تحقیقاتی اداروں کی جدید رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ دنیا بھر میں اوسطاً بالغ انسان روزانہ ۶ سے ۷ گھنٹے ڈیجیٹل اسکرینوں کی نذر کر دیتا ہے۔ ڈیٹا رپورٹل ڈیجیٹل ۲۰۲۶ گلوبل اوور ویو رپورٹ کے مطابق اوسط سوشل میڈیا صارف روزانہ ۲ گھنٹے ۳۹ منٹ سوشل پلیٹ فارمز پر صرف کرتا ہے، جو سالانہ ۴۰ سے زائد دنوں کے برابر بنتا ہے۔ او ای سی ڈی کے ۲۰۲۵ کے ڈیجیٹل ویل بیئنگ سروے کے مطابق تقریباً ۳۸ فیصد جواب دہندگان پانچ گھنٹے سے زائد روزانہ تفریحی اسکرین استعمال کرتے ہیں، جو ۱۸ تا ۲۵ سال کی عمر کے گروپ میں ۴۱ فیصد تک جا پہنچتا ہے۔ بھارت کے حوالے سے ۲۰۲۵ کے مطالعات بتاتے ہیں کہ اوسطاً ہندوستانی روزانہ ۷.۴ گھنٹے اسکرینوں پر صرف کرتا ہے۔ یہ بے پناہ ‘اسکرین ٹائم’ انسانی تعلقات میں ایک گہری خلیج پیدا کر رہا ہے جس کے لیے ماہرینِ اجتماع نے ‘فبنگ’ (Phubbing) یعنی سامنے بیٹھے زندہ انسان کو نظر انداز کر کے موبائل میں محو رہنے کی اصطلاح وضع کی ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہے کہ ‘فبنگ’ کا تعلق رشتوں میں تنازعات اور اطمینان میں کمی سے ہے۔
آج کا انسان چاند کی سطح پر تو اتر چکا ہے لیکن اپنے ہی گھر کے کمرے میں موجود اپنی شریکِ حیات، والدین یا اولاد کے دل تک پہنچنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتا ہے۔ خاندانی نشستیں، جو کبھی جذبات کے تبادلے، محبت اور تربیت کا مرکز ہوا کرتی تھیں، اب خاموش اسکرینوں کی چمک میں گم ہو چکی ہیں جہاں ہر شخص ایک الگ ورچوئل دنیا میں قید ہے اور اپنوں کی موجودگی میں بھی تنہائی کا شکار ہے۔
اس ڈیجیٹل ماحول کا سب سے المناک پہلو وہ سماجی بے حسی ہے جو دھیرے دھیرے ہماری رگوں میں زہر بن کر سرایت کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے جہاں رابطوں کو آسان بنایا، وہیں انسان کو ایک زہریلے سائبر ماحول کے سپرد بھی کر دیا۔ آج کسی حادثے، مظلوم کی آہ یا کسی دردناک واقعے کے وقت ہاتھ امداد کے لیے آگے بڑھنے کے بجائے اسمارٹ فون کا کیمرہ آن کر کے ویڈیو بنانے اور لائکس حاصل کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ انسانی دکھ اور درد اب ہمدردی کے جذبات بیدار کرنے کے بجائے محض مواد یعنی ‘کنٹینٹ’ بن کر رہ گئے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ سائبر ہراسانی، آن لائن ٹرولنگ اور نفرت انگیز بیانات کے رجحانات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اتر پردیش پولیس کے ویمن اینڈ چائلڈ سیفٹی آرگنائزیشن کے مطابق صرف ۲۰۲۴ میں ۶۶,۸۵۴ کیسز سائبر ہراسانی کے رپورٹ ہوئے، یعنی اوسطاً ہر آٹھ منٹ بعد ایک کیس۔ ان میں سے ۴۵,۰۰۰ سے زائد شکایات ۱۶ تا ۲۵ سال کی عمر کے نوجوانوں کی تھیں۔ پردے کے پیچھے چھپ کر کسی پر طنز کرنا، اس کی کردار کشی کرنا اور گمنام شناخت کا فائدہ اٹھا کر دوسروں کی عزتوں کی دھجیاں اڑانا اب ایک عام مشغلہ بن چکا ہے۔ نفسیاتی اصطلاح میں اسے ‘ڈی انڈیویڈیوئیشن’ (Deindividuation) کہا جاتا ہے، یعنی جب انسان سائے کے پیچھے ہوتا ہے تو وہ اپنی ذاتی اخلاقی ذمہ داری کو بھول جاتا ہے اور ایسے شنیع افعال کا مرتکب ہوتا ہے جن کا تصور وہ حقیقی زندگی میں کبھی نہیں کر سکتا تھا۔ جدید تحقیق سے ثابت ہے کہ ڈیجیٹل گمنامی اور منتشر اجتماعی حیثیت براہِ راست اور بالواسطہ طور پر ٹرولنگ کے رویے کو فروغ دیتی ہے، جس میں خود آگاہی کا فقدان اور ذمہ داری کا منتشر احساس کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں فیک نیوز اور الگورتھم کی سیاست نے بھی اخلاقی زوال کو مہمیز دی ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے الگورتھمز اس طرح ترتیب دیے گئے ہیں کہ وہ سنسنی خیز، منفی اور اشتعال انگیز مواد کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں کیونکہ ایسی خبریں انسان کو اسکرین سے چپکائے رکھتی ہیں۔ یہ عمل کوئی اتفاق نہیں بلکہ رویاتی نفسیات کے اصولوں پر مبنی ایک دانستہ ڈیزائن ہے۔ متغیر انعامی نظام (Variable Reward Schedules)، لامحدود اسکرولنگ (Endless Scroll) اور سماجی دباؤ (FOMO) ایسی تکنیکیں ہیں جو ڈوپامائن کے اخراج کو تحریک دے کر لت پیدا کرتی ہیں۔ اس عمل نے ایک خطرناک فکری بندش کو جنم دیا ہے جسے تکنیکی دنیا میں ‘ایکوز چیمبرز’ (Echo Chambers) اور ‘فلٹر ببلز’ (Filter Bubbles) کہا جاتا ہے۔ انسان صرف وہی باتیں سنتا اور دیکھتا ہے جو اس کے اپنے تعصبات کی تائید کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں مخالفت کو برداشت کرنے کا مادہ ختم ہو جاتا ہے اور معاشرے میں شدید نظریاتی پولرائزیشن یا قطبیت پیدا ہوتی ہے۔
تاہم، اس صورتحال سے نکلنے کے راستے بھی موجود ہیں۔ یونیورسٹی آف روچیسٹر کی حالیہ تحقیق بتاتی ہے کہ الگورتھم میں معمولی سی تبدیلی—جیسے صارف کو اس کے اپنے تعصبات کے علاوہ بھی مواد دکھانا—ایکوز چیمبرز کے اثر کو کمزور کر سکتی ہے۔ محققین کے مطابق جب الگورتھم میں زیادہ بے ترتیبی (Randomness) شامل کی جائے تو صارفین نظریات کی ایک وسیع رینج سے روشناس ہوتے ہیں اور مخالف خیالات کے لیے زیادہ کھلے ذہن کے حامل بن جاتے ہیں۔ یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایکوز چیمبرز آن لائن زندگی کی کوئی حتمی حقیقت نہیں بلکہ جزوی طور پر ایک ڈیزائن کا انتخاب ہیں—جسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ایک غیر تصدیق شدہ جھوٹ لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتا ہے اور کسی کی دہائیوں پر محیط عزت و آبرو اور ساکھ پل بھر میں خاک میں مل جاتی ہے۔ اختلافِ رائے کو دلیل سے رد کرنے کے بجائے گالی گلوچ، تضحیک اور نفرت کے ساتھ دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، جو کسی بھی مہذب اور ذی شعور معاشرے کے سڑنے کی واضح علامت ہے۔
اگر ہم اسلامی تعلیمات اور دینی تناظر میں دیکھیں تو قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں ان تمام اخلاقی بیماریوں کا نہ صرف جامع حل موجود ہے بلکہ سخت تنبیہ بھی کی گئی ہے۔ قرآنِ کریم نے بغیر تحقیق کے خبریں پھیلا کر فتنہ و فساد پیدا کرنے کی بابت سورۃ الحجرات (آیت ۶) میں واضح ہدایت فرمائی:
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ”
(اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو)۔
یہی نہیں بلکہ ٹرولنگ، تضحیک اور بدگمانی کو روکنے کے لیے اسی سورۃ الحجرات (آیات ۱۱-۱۲) میں فرمایا گیا:
“لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ”
(کوئی قوم دوسری قوم کا تمسخر نہ اڑائے)
اور
“اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب مَّبْعُضُكُم بَعْضًا”
(بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے)۔
ڈیجیٹل اسکرین کے پیچھے بیٹھ کر انسان جن اعضا سے گناہ کرتا ہے، ان کی جوابدہی کے بارے میں سورۃ الاسراء (آیت ۳۶) میں ارشاد ہوا:
“إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا”
(بے شک کان، آنکھ اور دل، ان میں سے ہر ایک سے سوال کیا جائے گا)۔
احادیثِ مبارکہ میں بھی تکنیکی آلات کے ذمہ دارانہ استعمال اور اخلاقی رویوں کا واضح معیار قائم کیا گیا ہے۔ صحیح بخاری (حدیث نمبر ۱۰) میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ”
(سچا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں)۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں انسان کا کی بورڈ پر ٹائپ کرنا اس کی زبان کا بدل ہے اور کلک کرنا ہاتھ کا عمل، لہٰذا کسی کو آن لائن ایذا پہنچانا بھی اسی کے زمرے میں آتا ہے۔ مزید برآں، جامع ترمذی (حدیث نمبر ۲۳۱۸) میں آپ ﷺ کا فرمانِ گرامی ہے:
“مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ”
(انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ بلا ضرورت اور فضول باتوں کو چھوڑ دے)۔
سوشل میڈیا پر غیر ضروری تبصرے، دوسروں کے معاملات میں بلا وجہ مداخلت اور لا یعنی مواد شیئر کرنا اسی نبوی حکمت کی خلاف ورزی ہے۔ آپ ﷺ کی بعثت کا بنیادی مقصد بیان کرتے ہوئے مسند احمد (حدیث نمبر ۸۹۵۲) میں متصل سند کے ساتھ روایت ہے:
“إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ”
(میں تو صرف اعلیٰ اور پاکیزہ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں)۔
اگر اس نبوی حکمت اور قرآن کی ان ہدایات کو ہم اپنی آن لائن زندگی، پوسٹس اور شیئرز کا حصہ بنا لیں تو یہی سوشل میڈیا جو آج نفرت اور انتشار کا مرکز بنا ہوا ہے، علم، خیر اور انسانیت کی خدمت کا سب سے مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
فکری لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو مفکرین نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ خالص مادیت اور سائنسی پیش رفت اگر اخلاقی تربیت سے خالی ہو تو وہ انسان کو تنزلی کی طرف لے جاتی ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ کے فکری تناظر کو اگر دورِ حاضر پر منطبق کیا جائے تو انہوں نے یہی تنبیہ کی تھی کہ محض تکنیکی مہارت یا سائنسی علوم کی فراوانی انسان کو کامل نہیں بناتی جب تک کہ اس کے ساتھ بلند کردار، خودداری اور احساسِ ذمہ داری نہ ہو۔ اقبال کے نزدیک وہ علم اور طاقت جو اخلاق اور روحانیت سے محروم ہو، وہ انسان کو چنگیزیت کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ چنانچہ وہ طنزیہ انداز میں فرماتے ہیں:
“مشرق میں اصولِ دین بن جاتے ہیں،
مغرب میں مگر مشین بن جاتے ہیں”
یعنی مشرق میں دین کے اصولوں کو اپنا کر انسان اپنی اخلاقی بلندیوں کو برقرار رکھ سکتا ہے، مگر مغرب کی اندھی تقلید میں یہی اصول محض مشینی طرزِ زندگی کا حصہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ تمدن کی حقیقی روح مشینوں کی تیز رفتاری میں نہیں بلکہ انسان کے اندر بیدار ہونے والے ضمیر اور انسانیت کے احترام میں پنہاں ہے۔ اگر نئی نسل کو شاہین کی پرواز کے ساتھ ساتھ درویشانہ اخلاق اور بلند سیرت کی تربیت دی جائے تو وہ ٹیکنالوجی کی غلام بننے کے بجائے اس کی حکمران بنے گی اور اسے خیر کے فروغ کے لیے استعمال کرے گی۔
آج کے اس نازک موڑ پر جہاں ڈیجیٹل اسکرینیں ہمارے بچوں اور نوجوانوں کی ذہن سازی کر رہی ہیں، شدید ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کریں۔ ہمیں نئی نسل کو صرف جدید ترین گیجٹس چلانا اور کوڈنگ سکھانے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں ‘ڈیجیٹل لٹریسی’ اور ‘ڈیجیٹل اخلاقیات’ کا سبق بھی دینا ہوگا۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کرنی ہوگی کہ سچائی، امانت، برداشت، دوسروں کے جذبات کا احترام اور انسان دوستی ہی کسی قوم کی حقیقی ترقی کا معیار ہیں۔
والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما، فکر و دانش کے علمدار اور میڈیا ہاؤسز سب پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے عملی کردار اور پالیسیوں کے ذریعے ڈیجیٹل دنیا میں اخلاقی اقدار کی بحالی کا محاذ سنبھالیں۔ گھروں میں ‘اسکرین فری زونز’ قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں کھانے کی میز اور خاندانی نشستوں پر موبائل فونز کا استعمال ممنوع ہو تاکہ آمنے سامنے کی بات چیت، نظروں کا ملاپ اور لمس کی گرماہٹ دوبارہ بحال ہو سکے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ اسکرین فری اوقات خاندانی تعلقات کو مضبوط کرتے ہیں، نیند اور بہبود میں بہتری لاتے ہیں، اور بچوں کو حقیقی دنیا کے مواصلاتی مہارتوں کو فروغ دینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک اسکرین فری ہفتے کے پروگرام نے والدین کی ڈپریشن علامات میں کمی، اسکرین ٹائم کی حدود کے قیام میں اضافہ، اور والدین اور بچے دونوں کے اسکرین ٹائم میں کمی ظاہر کی۔
اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کے نصاب میں آن لائن رویوں اور سائبر اخلاقیات کو بطورِ خاص شامل کیا جانا چاہیے تاکہ بچہ بچپن ہی سے یہ سیکھے کہ اسکرین کے اس پار بھی ایک جیتا جاگتا انسان موجود ہے جس کے دل کو دکھانا یا جس کی تحقیر کرنا اتنی ہی بڑی اخلاقی برائی ہے جتنی کہ حقیقی زندگی میں۔
حکومتوں اور قانون ساز اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ محض سنسرشپ کے بجائے سائبر قوانین کی مؤثر اور بلا امتیاز پاسداری کو یقینی بنائیں تاکہ آن لائن ہراسانی، جعل سازی اور نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ تاہم صرف قوانین سے انسان کی اصلاح ممکن نہیں، جب تک کہ انسان کا اپنا اندرونی ضمیر بیدار نہ ہو۔
ترقی اور سائنس کے سفر سے انحراف یا فرار ممکن نہیں اور نہ ہی ٹیکنالوجی کو ترک کرنا کوئی دانشمندانہ حل ہے، لیکن اس ترقی کو اخلاقی اور انسانی اقدار کے تابع بنانا اب بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ مشینیں زندگی کے کام کاج کو آسان، تیز اور آرام دہ تو بنا سکتی ہیں، مگر صرف اعلیٰ اخلاق اور انسانی جذبات ہی زندگی کو خوبصورت، معاشرے کو امن کا گہوارہ اور قوموں کو تاریخ میں عظیم بناتے ہیں۔
اگر ہم نے اس ڈیجیٹل عصر میں بھی سچائی، محبت، ایثار اور ذمہ داری کو اپنا شعار بنا لیا تو یہی ڈیجیٹل انقلاب ہمارے روشن، تابناک اور امن پسند مستقبل کی ضمانت بن جائے گا، ورنہ اسکرینوں کی چمک میں انسانیت کا تاریک ہونا طے ہے۔ یاد رکھیے، مشینیں دنیا کے نقشے اور کام کاج بدل سکتی ہیں، مگر سچائی اور کردار ہی انسان کو بدلتا ہے، اور جب انسان بدلتا ہے تو اقوام کی تقدیر کے ستارے چمک اٹھتے ہیں۔










