*آسنسول ضلع اسپتال میں پہلی بار دونوں گھٹنوں کی کامیاب تبدیلی*
*60 سالہ خاتون کا کامیاب ٹوٹل نی ریپلیسمنٹ، ٹراما سینٹر میں تاریخ رقم*
آسنسول 16 ستمبر: گنیش چترتھی کے موقع پر سوموار کے روز آسنسول ضلع اسپتال کے ٹراما سینٹر میں پہلی مرتبہ ایک خاتون مریضہ کے دونوں گھٹنوں کی کامیاب تبدیلی (ٹوٹل نی ریپلیسمنٹ) کی گئی۔ یہ اہم آپریشن ضلع اسپتال کے آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر نِر جھَر ماجی نے انجام دیا۔
آسنسول کے سکانت پلی کی رہنے والی 60 سالہ جھَرنا داس نامی مریضہ کافی عرصے سے شدید گھٹنوں کے درد میں مبتلا تھیں۔ کامیاب آپریشن کے بعد ان کی حالت فی الحال مستحکم بتائی گئی ہے۔ ڈاکٹروں کی نگرانی میں انہیں مزید چند دن اسپتال میں رکھا جائے گا۔

اس سلسلے میں ضلع اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر تپن کمار وشواس نے بتایا کہ سوموار کے روز انجام دیے گئے اس آپریشن میں ڈاکٹر نِرجھَر ماجی کے ساتھ اسپائنل اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر پرنب دتہ اور ان کی ٹیم نے تعاون کیا۔ اس کے علاوہ ضلع اسپتال کے نرسنگ اسٹاف اور آپریشن تھیٹر کے معاونین نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے بتایا کہ مریضہ کے گھٹنوں کے امپلانٹ کا انتظام ضلع اسپتال اور ضلع صحت محکمہ (سی ایم او ایچ دفتر) کے اسٹور کے ذریعے کیا گیا۔ تمام متعلقہ عملے کے تعاون سے ضلع اسپتال اور اس کے ٹراما سینٹر میں اس نوعیت کا یہ پہلا کامیاب آپریشن انجام پایا ہے۔
ضلع اسپتال ذرائع کے مطابق جھَرنا داس کو کافی عرصے سے گھٹنوں میں شدید تکلیف تھی۔ وہ زیادہ دیر تک گھٹنے موڑ کر نہیں بیٹھ سکتی تھیں۔ یہاں تک کہ انہیں بیت الخلا جانے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ خاص طور پر رات کے وقت گھٹنوں کا درد شدت اختیار کر جاتا تھا، جس کی وجہ سے انہیں نیند لینے میں بھی پریشانی ہوتی تھی۔
تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل جھَرنا دیوی آسنسول ضلع اسپتال کے آؤٹ ڈور میں ڈاکٹر نِرجھَر ماجی سے مشورہ کرنے پہنچی تھیں۔ مختلف طبی جانچ کے بعد ڈاکٹر نے پایا کہ ان کے دونوں گھٹنوں میں شدید خرابی پیدا ہو چکی ہے اور وہ معمول کی حالت میں نہیں رہے تھے۔ ڈاکٹر نے مریضہ کے اہل خانہ کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے دونوں گھٹنوں کی تبدیلی کا مشورہ دیا، جس پر اہل خانہ نے رضامندی ظاہر کی۔

اسی کے مطابق جھَرنا داس کو تقریباً چار روز قبل ضلع اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جہاں سوموار کے روز دونوں گھٹنوں کی تبدیلی کا کامیاب آپریشن کیا گیا۔ ضلع اسپتال میں اس نوعیت کا پیچیدہ آپریشن کامیابی سے انجام پانے پر مریضہ کے اہل خانہ میں خوشی کی لہر ہے۔









