*مسلمان انتہائی پسماندہ۔بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لئے بھی تگ و دو*
*تعلیم، معاشی استحکام اور سیاسی شعور وقت کا تقاضہ*
*اقلیتیں سیاسی میدان میں آگے آئیں۔ کورٹلہ میں کے کویتا کا اردو میں فکر انگیز خطاب*
کورٹلہ:تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مسلمان ہر شعبہ حیات میں نمایاں مقام رکھتے تھے خصوصاً تعلیمی میدان میں وہ سب سے آگے تھے اور مختلف سرکاری عہدوں پر فائز ہوا کرتے تھے لیکن آج ان کی حالت انتہائی پسماندہ ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کو بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لئے بھی جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے، حتیٰ کہ کئی خاندان راشن کے چاول پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں اور گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لئے خاندان کےتمام افراد کو کام کرنا پڑتا ہے۔کویتا نے کہا کہ سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے نام پر جھوٹے وعدے کرتی ہیں اور مسلمانوں کےووٹ حاصل کرتی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب تیزی سے گھٹ رہا ہے۔ مسلمانوں کو محض ریزرویشن کی فراہمی کی بات کی جاتی ہے۔کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جاتے۔انہوں نے کہا کہ آج مسلمانوں کو سب سے زیادہ تعلیم، معاشی بااختیاری اور سیاسی شعور کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پر زور انداز میں کہا کہ “مسلمانوں کو خود کو مضبوط بنانا ہوگا، تعلیم حاصل کرنی ہوگی اور معاشی طور پر مستحکم ہونا ہوگا،کویتا نے کہا کہ اسمبلی اور پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی بڑھنے سے ہی انہیں انصاف مل سکتا ہے، اس لئے اقلیتی نوجوانوں کو سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔انہوں نے بتایا کہ ٹی آر ایس پارٹی میں بڑی تعداد میں مسلم بھائی اور بہنیں شامل ہو رہے ہیں اور انہوں نے سب کا خیرمقدم کرتے ہوئے مزید افراد کو بھی پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی۔کویتا نے خاص طور پر اقلیتی نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ سیاست میں قدم رکھیں اور ٹی آر ایس پارٹی کا حصہ بنیں، یقین دلایا کہ انہیں بھرپور مواقع اور تعاون فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے آخر میں کہا کہ گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھتے ہوئے ریاست کی ترقی کے لئے مشترکہ کوششیں کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔










