*مقامیت کے مسئلہ پر گزشتہ 600 برسوں سے تلنگانہ عوام پر متواتر حملے*
*ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ نقصاندہ۔ حکومت، سپریم کورٹ میں نظرثانی پٹیشن داخل کرے*
*حکومت کو وعدوں کی تکمیل پر مجبور کرنے2جولائی کو اپل بھگایت میں ملین مارچ کو کامیاب بنایا جائے*
*مقامی نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ناقابل برداشت۔سوماجی گوڑہ پریس کلب میں گول میز کانفرنس۔کےکویتا کا خطاب*

تلنگانہ میں مقامیت کے مسئلہ اور درپیش چیلنجس پر تلنگانہ رکشنا سینا کے زیر اہتمام سوماجی گوڑہ پریس کلب میں ایک اہم گول میز اجلاس منعقد ہوئی جس سے پارٹی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے تفصیلی خطاب کیا۔کویتا نے کہا کہ مقامیت کے مسئلہ پر گزشتہ 600 برسوں سے تلنگانہ کے عوام پر مسلسل حملے ہوتے آرہے ہیں اور اس تاریخی ناانصافی کو آج تک ختم نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ بہمنی دور سے لے کر آج تک مقامی حقوق کے حصول کے لئےجدوجہد جاری ہے اور یہی مسئلہ مختلف ادوار میں مختلف شکلوں میں سامنے آتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ہائی کورٹ کے فیصلے نے مقامیت کے معاملہ میں سنگین نقصان پہنچایا ہے اس لئے ریاستی حکومت کو فوری طور پر سپریم کورٹ میں نظرثانی پٹیشن دائر کرنی چاہئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس سلسلہ میں اقدام نہیں کرتی ہے تو تلنگانہ رکشنا سینا بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ مل کر خود سپریم کورٹ سے رجوع ہوگی۔ کویتا نے کہا کہ جج صاحبان کو پریسیڈنشیل آرڈر کی اصل روح کو سمجھنا ہوگا اور مقامی عوام کی قربانیوں، دکھ اور احساسات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پریسیڈنشیل آرڈر کے تینوں اصولوں کو یکجا کر کے دیکھنا درست نہیں بلکہ آئین کی جانب سے فراہم کردہ تحفظ کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گروپ1 تقررات میں تلنگانہ کے امیدواروں کے ساتھ شدید ناانصافی کی گئی اور غیر مقامی افراد کو مختلف سرٹیفکیٹس کے ذریعہ مواقع فراہم کئے گئے جس کے نتیجہ میں بڑی تعداد میں بیرونی افراد کو ملازمتیں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ کویتا نے کہا کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آتی ہے تو گروپ1 تقررات کا مکمل جائزہ لینے کے لئے جوڈیشیل ریویو کمیٹی تشکیل دے گی اور ناانصافی کا بہر صورت ازالہ کرےگی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے مستقبل کو متاثر کرنے والی ان ملازمتوں میں مقامی نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ نظام دور میں مقامی حقوق کے تحفظ کے لئے قوانین بنائے گئے مگر ان پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا جس کے باعث مسلسل تحریکیں چلتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں علیحدہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد بھی مقامی عوام کو مکمل انصاف نہیں ملا۔
کویتا نے کہا کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ماضی کے ملکی رولز جیسے اقدامات دوبارہ نافذ کرنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے تاکہ مقامی افراد کے حقوق کے تحفظ کویقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر غیر مقامی افراد یہاں آ کر ملازمتیں حاصل کرتے ہیں تو طویل عرصے تک تلنگانہ کے وسائل پر ان کا کنٹرول قائم ہو جاتا ہے جو مقامی عوام کے لئے نقصاندہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کے مسائل کو سمجھنے کے لئے مقامی افسران کا ہونا ضروری ہے۔ کویتا نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بے روزگار نوجوانوں کو انصاف دلانے کے بجائے مہنگے وکلاء کے ذریعہ مقدمات کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کئی معاملات کو عدالت میں پیش ہونے سے بھی روکا جا رہا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ 2 جولائی کو اپل بھگایت میں ملین مارچ منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے اس میں بھرپور شرکت کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنے وعدے پورے کرنے پر مجبور کرنے کے لئے ایک اور تلنگانہ تحریک کی ضرورت ہے۔
کویتا نے کہا کہ اگر ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج نہ کیا گیا تو یہ تلنگانہ کے عوام کے ساتھ ایک بڑی ناانصافی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں نہ سرکاری ملازمتیں مل رہی ہیں اور نہ ہی نجی شعبے میں مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے اور بینکوں کے ساتھ تنازعات جیسے معاملات ریاست کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ آخر میں کویتا نے واضح کیا کہ تلنگانہ رکشنا سینا ریاست کے عوام، بے روزگار نوجوانوں اور تحریک کے کارکنوں کے حقوق کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔










