ڈرامہ نگار عزیز احمد عزیز نہیں رہے
آسنسول میں ڈرامہ کی دنیاکا ایک سنہرا باب کااختتام
موت زندگی کی سب سے بڑی سچائی ہے اور اس کا سامنا ہر ذی روح کو کرنا ہے مگر کچھ لوگوں کی دائمی جدائی صرف اہل خانہ کے لئے نہیں بلکہ پورے شہر کے لئے باعث رنج و الم بن جاتا ہے۔ آسنسول کے معروف ڈرامہ نگار وڈرامہ آرٹسٹ، AAA پروڈکشن کے مالک اور شاعر عزیز احمد عزیز کی موت کی خبر سے اہلیانِ آسنسول کے دل غمگین ہوگئے۔ آسنسول میں ڈرامہ کی دنیا کاسب سے اہم نام عزیز احمد عزیز زندگی کی تقریباً 76 بہاریں دیکھنے کے بعد سنیچر کی شب قریب ساڑھے نو بجے اپنی رہائش گاہ کے بستر پر زندگی کی آخری سانس لے کراس جہان آب وگل کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ دیا۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاؤہ صرف ایک شادی شدہ دختر ہے جو اپنی والدہ کے ساتھ دوبئی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔کچھ دن قبل ہی اہلیہ آسنسول واپس آگئی تھی مگر دختر والد کی موت کی خبر سن کر ان کے آخری دیدار کےلئے وطن روانہ ہوئی۔ ان کے آنے کے بعد کی سوموار کی صبح دس بجے تالپوکھریا قبرستان میں تجہیز وتکفین عمل میں آئی۔ آخری سفر میں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کی اچھی خاصی تعداد موجود رہی۔ماسٹر محمد سلیمان سے ملی اطلاع کے مطابق آسنسول کی معروف شخصیت محمد یعقوب لالہ کے فرزندعزیزاحمد عزیز کی ابتدائی تعلیم آسنسول عیدگاہ ہائی اسکول سے ہوئی اور آسنسول بی سی کالج سے سائنس میں گریجویشن مکمل کرنے کے بعد ڈرامہ کی دنیا میں قدم رکھے۔ اپنی آواز،اداکاری اور ڈرامہ نگاری سے نہ صرف سبھوں کو متاثر کیا بلکہ ڈرامہ کی دنیا کی ایک نسل کی آبیاری بھی کی۔ اسٹیج کے علاؤہ جب کبھی کسی اسکول میں طلبہ کا ثقافتی پروگراموں میں ڈرامہ شامل کیا جاتا تو عزیز احمد عزیز کی خدمات ضرور حاصل کی جاتی۔ عزیز احمد عزیزپوری محنت، لگن اور ایمانداری سے ان طلبا و طالبات کے اندر ایسی چمک ڈال دیتے کہ اسٹیج پر ان ننھے آرٹسٹوں کی اداکاری دیکھ کر سامعین دنگ رہ جایا کرتے تھے۔ اس عظیم فنکار کی موت کے ساتھ ہی آسنسول میں ڈرامہ کی دنیا کا ایک سنہرا باب مکمل ہوگیا۔










